بھارتی ریاست اتر پردیش کی انتہاء پسند حکومت نے مسلمانوں کی قدیم مسجد کو مسمار کردیا۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کے شہر پریاگ راج (الٰہ آباد) میں شیر شاہ سوری کے زمانے میں بنائی گئی مسجد کو مسمار کردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ مسجد پاکستانی پرچم لگانے پر مسمار کی گئی تاہم میڈیا کے مطابق مسجد سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے مسمار کی گئی ہے۔
بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جارہی ہے کہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیاناتھ نے مسلمانوں کی کئی سو سال قدیم مسجد مسمار کروائی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اس مسجد پر پاکستانی پرچم لگایا گیا تھا، جس پر مسجد مسمار کی گئی۔
دوسری جانب انڈین فیکٹ چیکنگ اکاؤنٹ ’ڈی انٹینٹ ڈیٹا‘ کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے مسجد کو مسمار کئے جانے کی وجہ نہ پاکستانی پرچم تھا اور نہ ہی اس کا کسی مذہبی معاملے سے کوئی تعلق ہے بلکہ اس مسجد کو ایک سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے مسمار کیا گیا ہے۔
کچھ ٹوئٹر صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ الٰہ آباد انتظامیہ نے اس مسجد کو عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود مسمار کرکے ناانصافی کی ہے۔
صحافی احمد خبیر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اس مسجد کی تعمیر بادشاہ شیر شاہ سوری کے دور حکومت میں ہوئی تھی اور اسے جی ٹی روڈ کو کشادہ کرنے کیلئے مسمار کیا گیا ہے۔
احمد خبیر کے مطابق شاہی مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ عدالت نے اس معاملے کی سماعت جنوری 16 کو کرنا تھی۔ تاہم عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہی مسجد مسمار کردی گئی۔
انتہاء پسند ہندوؤں نے ایک اور تاریخی مسجد شہید کردی








