اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دو سال کے دوران، ایک فیصد امیر ترین طبقے نے دنیا کی دو تہائی دولت پر قبضہ کر لیا ہے۔ غربت کیخلاف سرگرم بین الاقوامی تنظیم آکسفیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020ء سے دنیا میں نئی پیدا ہونے والی دولت 4200؍ ارب ڈالرز (42؍ ٹریلین) جمع ہوئے ہیں جس میں سے 2600؍ ارب ڈالرز یعنی 63؍ فیصد حصہ صرف ایک فیصد امیر ترین طبقے نے حاصل کیا ہے۔ باقی 1600؍ ارب ڈالرز یعنی 27؍ فیصد حصہ تمام دنیا میں تقسیم ہوا ہے۔ سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر جاری کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حساب سے دیکھا جائے تو دنیا کے ہر ارب پتی شخص نے 1.7؍ ملین ڈالرز جبکہ معاشی نظام میں نچلے طبقے نے ایک ڈالر کمایا۔ گزشتہ دو سال کے دوران ارب پتی افراد کی دولت میں روزانہ کے حساب سے 2.7؍ ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا اور اس سے قبل گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھی ایسے افراد نے تاریخی منافع کمایا اور ان کی دولت اور اثاثہ جات میں بھرپور اضافہ ہوا۔ آکسفیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022ء کے دوران ارب پتی افراد کی دولت میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خوراک اور توانائی سے جڑی 95؍ فیصد کارپوریشنز کے منافع میں دو گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایک فیصد امیر ترین طبقہ دنیا کی دو تہائی نئی دولت کا مالک بن گیا








