اسلام آباد: سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جینڈر بجٹنگ کے لیے سب سے موثر طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا پارلیمان میں بجٹ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافے اور اس بات کو یقینی بنانے کہ خواتین کو ترقیاتی منصوبہ بندی کےعمل میں شامل کیا جانے پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے جینڈ ر بجٹنگ کو تمام سطحوں میں مربوط بنانے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد اور نگرانی کو یقنی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد میں ویمن پارلیمانی کاکس (WPC) اور FES کے زیر اہتمام ’’جینڈر ریسپانسیو بجٹنگ رپورٹ‘‘ کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سپیکر نے پاکستان میں جینڈر ریسپانسیو بجٹنگ پر سمری پیپر کے اجراء کے لیے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی کوششوں کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ وہ جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ خواتین کی آزادی کی پر یقین رکھتی ہے کیونکہ بااختیار خواتین بااختیار قوم بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ سیاست میں خواتین کی بامعنی شرکت کو فروغ دینے کے لیے غیر متزلزل حمایت کی ہے اور ہمیشہ اس حقیقت کی ایڈوکسی کی ہے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی جمہوریت حقیقی جمہوریت نہیں ہو سکتی ۔انہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں جینڈر بجٹنگ کے نفاذ میں تعاون کریں۔
خواتین کی پارلیمانی کاکس نے “پاکستان میں جینڈر بجٹنگ” کے موضوع پر سمری پیپر کا اجرا کیا ہے۔ خواتین کے پارلیمانی کاکس کے سمری پیپر اجرا کا مقصد پاکستان میں جینڈر بجٹنگ کے نفاذ کے لیے حکمت عملی اور طریقہ کار کو وضع کرنا ہے۔ جینڈ ر بجٹنگ کے لئےکام کرنے والے اداروں خاص طور پر ڈبلیو پی سی او رسول سوسائٹی سمیت صنفی بجٹنگ کے کام میں مربوط نقطہ نظر کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھنے والے اداروں کی رہنمائی کرے گا۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ڈبلیو پی سی صنفی بجٹ سازی کے عمل کو ادارہ جاتی بنانے کے لیے پوری لگن سے کام کر رہا ہے۔ انہوں اس بات پر روشنی ڈالی کہ عوامی اخراجات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، ہمیں اس کا تجزیہ کرنے کے لیے صنفی ضروریات کے ادراک کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں بجٹ سازی کے عمل میں خواتین کو شامل کرنا اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ان کے نقطہ نظر اورضروریات کو مدنظر رکھا جائے اور پالیسیاں ان کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مالی سال 2022-2023 کے مالیاتی بجٹ میں، مالی ترامیم کی اکثریت خواتین ارکان پارلیمنٹ کی تھی۔ڈاکٹر رحمانی نے کہا کہ خواتین
پر سرمایہ کاری نہ صرف ایک اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے بلکہ خواتین کو حقیقی طور پر بااختیار بنانے کے لیے لازمی ہے۔
Friedrich-Ebert-Stiftung (FES)کنٹری ڈائریکٹر نیلس ہیگیوِش نے کہا، “صنفی انصاف کے بغیر سماجیی انصاف نہیں ہے۔”خواتین کی پارلیمنٹری کاکس کےتعاون س ےصنفی بجٹ سازی پر ایک حکمت عملی پیپر تیار کیا ہے۔ ایف ای ایس کی جانب سے نومبر 2022 میں ڈبلیو پی سی کے ساتھ ایک کامیاب جینڈر بجٹنگ ورکشاپ کاانعقاد کیا گیا ۔انہوں نے پارلیمنٹیرینز، صحافیوں اور سیاسی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی اسٹریٹجی پیپر پیش کیا۔
ڈبلیو پی سی کی سکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے اپنے ابتدائی کلمات میں جینڈر بجٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اخراجات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، ہمیں صنفی نقطہ نظر کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنا، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسیوں اور پروگراموں کو ڈیزائن کرتے وقت ان کے نقطہ نظر اور ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔
حکمت عملی کے مقالمے کے مصنف، ماریون بوکر کے مطابق، اس کا مطلب ہے “بجٹ میں صنفی نقطہ نظر کو لاگو کرنا اور تمام جنسوں، خواتین، مردوں اور خواجہ سراؤں کی مساوات کا احساس کرنا۔” انتظامی بجٹ، جیسا کہ پارلیمنٹ کی طرف سے تیار کردہ، مختلف اداروں کے لیے رقم مختص کرتے ہیں، لیکن تمام فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں کیے جاتے ہیں، اور اگر فنڈز کو مختلف طریقے سے استعمال کیا جائے تو ہر کوئی یکساں طور پر متاثر نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، صحت کی دیکھ بھال کے بجٹ میں کٹوتی خواتین کو غیر متناسب طور پر متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ دیکھ بھال کا کام عام طور پر خواتین کرتی ہیں۔
ڈاکٹر الزبتھ کلاٹزر نے ان علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پاکستان کو بجٹ سازی کے لیے زیادہ صنفی شمولیت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔









