ملتان ( ممتاز نیوز) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، مرکزی سنیئر وائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، مرکزی سنیئر نائب صدر حاجی بابر علی قریشی،جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، ضلعی صدر سیدجعفر علی شاہ، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی،ملتان کے جنرل سیکرٹری مرزا نعیم بیگ، دیار ایسوی ایشن ٹمبر مارکیٹ کے صدر قمرزمان خان، ملتان کے نائب صدر شیخ ندیم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آ ئند ہ ماہ میں دو سو ارب سے زائد نئے ٹیکسز کی شنید معاشی بدحالی کا شکار لاکھوں چھوٹے تاجروں اور غریب عوام پر مزید ظلم ڈھانے کے مترادف ہے اگر مزید نت نئے ٹیکسز عائد کئے گئے تو مرکزی تنظیم تاجران احتجاجی تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی کیونکہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی اور مہنگائی نے نہ صرف چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے بلکہ سفید پوش طبقہ کا بھرم بھی ختم کر کے رکھ دیا ہے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ 13 جماعتیں اکٹھی ہوگئیں لیکن معاشی استحکام کے سلسلے میں وہ کوئی اقدامات نہیں کرسکے جس کی وجہ سے آ ج پوری قوم شدید مشکلات کا شکار ہے اور غریب شہری بچوں بیوی سمیت خودکشیوں اور خودسوزیوں پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران سنجیدگی سے نوٹس لینے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہیں جس کی جتنی مزمت کی جائے وہ کم ہے اسی لیے حکمران غریب قوم پر مزید ٹیکس لگانے کی بجائے سوئس بنکوں میں رکھی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں اور غریب عوام کو معاشی بدحالی سے نجات دلائیں










