بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  خصوصی کمیٹی متاثرہ ملازمین کی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو تمام اداروں کو کنٹریکٹ ،ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی کاسرکلر کر نے کی ہدایت 

 اسلام آباد(ممتازنیوز)قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو تمام اداروں کو کنٹریکٹ / ڈیلی ویجز،جزوقتی اور سینئرمیٹر ریڈرز ملازمین کی مستقلی کاسرکلر جاری کر نے کی ہدایت کردی جس پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یقین دلایا ہےکہ کہ کل ہی تمام اداروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے سرکلر کر دیا جائے گا۔

کمیٹی کا اٹھارواں اجلاس چیئرمین کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل کی زیر صدارت ہوا جس میں اداروں کو کنٹریکٹ/ ڈیلی ویجزملازمین کی مستقلی بارے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جس پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گریڈ ایک سے لے کر گریڈ 19 تک کے ملازمین کو ریگولر کرنے کا قانون بھی موجود ہے اور ادارے کر سکتے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی 30 ستمبر 2022 تک کے ملازمین کو ریگولر کرنے کے احکامات پہلے ہی دے چکی ہے جس پر15 دن میں عملدرآمد کا حکم تھا ،تاہم اس دوران کچھ ادارے وزیر اعظم سیکرٹریٹ ،کچھ وزارت قانون و انصاف اور کچھ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کے لئے قانونی رائے لی تھی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح حکم دے دیا ہے کہ کمیٹی کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اسی طرح وزارت قانون و انصاف اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی اداروں کو یہی حکم دیا کہ کمیٹی کے احکامات پر عمل کیا جائے اس لئے ہم نے اداروں کو ایک ہفتے کی مزید مہلت دے رکھی ہے اور آئندہ میٹنگ میں عملدرآمد رپورٹ دیکھی جائے گی۔مزید چیئرمین کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی تمام اداروں کو کنٹریکٹ / ڈیلی ویجز،کانٹیجنٹ اور سینئرمیٹر ریڈرز ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایک سرکلر کر دے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ کل ہی تمام اداروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے سرکلر کر دیا جائے گا۔ایف آئی اے کی جانب سے آئے ہوئے افسران سے پوچھا گیا کہ کمیٹی نے احکامات جاری کئے تھے کہ کسی ملازم کو گرفتار نہ کیا جائے اور نہ کسی قسم کی کوئی کارروائی کی جائے کمیٹی میں ان ملازمین کا کیس جاری ہے اور فیصلے کا انتظار کیا جائے،اس کے علاوہ انسپکٹر جاوید علی سمیت دیگر کچھ ملازمین کی بحالی کا کہا گیا تھا،ان احکامات پر عمل ہوا یا نہیں۔افسران نے کہا کہ کمیٹی کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ادارے نے کسی ملازم کو گرفتار کرنے سے منع کر دیا ہے جس پر یونین کے صدر نے کہا کہ صورتحال مختلف ہے باقاعدہ لوگوں کو بلا کر دھمکایا اور ڈرایا جا رہا ہے،شناختی کارڈ بلاک کر دیئے گئے ہیں،اکاونٹ بند کر دیئے گئے ہیں حتی کہ ویزے بھی کینسل کروا دیئے گئے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے تمام ممبران کی منظوری کے بعد احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملازمین کے اکاونٹس کو کھول دیا جائے ،شناختی کارڈ بلاک کرنے کی انکوائری کی جائے،انسپکٹر جاوید علی کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ڈی جی ایف آئی کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروائی جائے گی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے آئے ہوئے ملازمین نے کمیٹی کو بتایا کہ تین تین سالوں سے کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں اور ادارہ ریگولر نہیں کر رہا۔2600 ملازمین کو ٹھیکداری سسٹم میں ڈالا جا رہا ہے ،چیئرمین کمیٹی نے ڈی جی سول ایوی ایشن اور سپیشل سیکرٹری کو عدم حاضری پر شوکاز جاری کر دیا اور ڈی جی سول ایشن کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا بھی حکم جاری کر دیا۔کمیٹی نے احکامات جاری کئے کہ 2600 ملازمین بارے دیئے گئے احکامات پر عمل کیا جائے ،ٹھیکداری نظام کے حوالے سے جتنے بھی نوٹس ہو چکے کمیٹی انہیں منسوخ کرتی ہے اور جس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جا رہا تھا اس کمپنی کے بارے میں چیک کیا جائے کہ کیاکمپنی SECP سے رجسٹرڈ بھی ہے کہ نہیںاور کمپنی کے مالکان کی مکمل تفصیل سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔وزارت صحت کی جانب سے افسران سے پوچھا گیا کہ کمیٹی نے جو احکامات دیئے تھے ان پر کیا ہوا اور 8ڈاکٹر کے حوالے سے جو حکمنامہ تھا اس پر عمل ہوا کہ نہیں۔جس پر کمیٹی کو افسران نے بتایا کہ کمیٹی کے حکم کے مطابق ہم نے کیس کا پراسس شروع کر دیاہے اور جلد بحال کر دیں گے۔جس پر کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کمیٹی کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اگر عمل نہ کیا گیا تو ایڈیشنل سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کر دیا جائے گا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کس قانون کے تحت فارمیسی کونسل میں اسسٹنٹ سیکرٹری کو ڈیلی ویجز پر رکھا گیا اور پھر نکال بھی دیا گیا ہے۔جس پر افسران کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے بلکہ گمرا ہ کرنے کے ناکام کوشش کی گئی ،چئیرمین کمیٹی نے مزید کہا کیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ادارے نے مذکورہ ملازم کو بحال کیوں نہیں کیا جس کا جواب افسران نہ دے سکے۔کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان کو غلط بیانی کرنے پر شوکاز جاری کر دیااور ساتھ حکم جاری کیا کہ سیکرٹری ہیلتھ اور سپیشل سیکرٹری ہیلتھ تین دن کے اندر ملازم کو بحال کر کے کمیٹی کو رپورٹ جمع کروائیں۔وزارت سمندری امور کے افسران سے پوچھا گیا کہ کمیٹی کے احکامات پر کیا رپورٹ ہے جس پر افسران نے بتایا کہ محمد علی کا کیس ایک ہفتے کے اندر اندر پراسس کرنے کا حکم تھا جس پر عمل ہو گیا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خدا کا خوف کریں غریب ملازم کو ایک سو روپے رشوت کے الزام میں جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے جس کا ثبوت بھی آپ کے پاس نہیں۔جس پر تمام ممبران کی منظوری سے سید طارق ہد ی کے خلاف تحریک استحقاق کی منظوری دی گئی اور سیکرٹری میری ٹائم کو شوکاز جاری کیا گیا اور کمیٹی کی جانب سے حکم دیا گیا کہ تین دن کے اندر اندرسن کوٹہ سمیت کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے 43 سیکڈ ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے،جس پر چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی کا بھی حکم تھا اس حوالے سے کیا رپورٹ ہے اس کے علاوی 16 ملازمین جن کو نکال دیا گیا ہے اور گھرتک خالی کروانے کا نوٹس دیا جا چکا ہے اس حوالے سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے لئے سکروٹنی شروع کر دی ہے اور جلد ریگولر کر دیئے جائیں گے۔چیئرمین کمیٹی نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ کمیٹی میں کیس چل رہا ہے اس لئے کسی بھی ملازم کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کی جائے اور نہ ہی گھروں سے بے دخل کیا جائے۔پی آئی اے جعلی ڈگری کیس کے حوالے سے گفتگو کے دروان نے چیئرمین کمیٹی نے کہا اس کیس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوا اور رپورٹ ملی ہے کہ سید عابد مصطفے نامی شخص جس کی اپنی ڈگری جعلی ہے کو ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کا انچارج لگا دیا گیا ہے ،یونین عہدیداروں نے بھی کمیٹی کو بتایا کہ ابھی بھی ملازمین کو مسلسل ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے ،جس پر چیئرمین کمیٹی نے ایک سب کمیٹی قائم کردی جو اس سارے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کرکے کمیٹی کو رپورٹ جمع کروائے گی۔