کوئٹہ (نیوزڈیسک) کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے مچھ ٹرین حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ ترجمان بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا کہ اس کے شدت پسندوں نے ٹرین کی تیسری بوگی کو اس وقت نشانہ بنایا جب سکیورٹی اہلکار ٹرین کی پہلی پانچ بوگیوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ مچھ میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین کوبم سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی ۔اس حملے کے نتیجے میں متعدد بوگیاں پٹری سے اترگئیں ۔ ڈی سی بولان کے مطابق 13 افراد دھماکہ میں زخمی ہوئے ۔ دشوار گذار پہاڑی علاقہ اور سردی کی وجہ کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ بلوچستان نے مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر ڈی سی کچھی اور سبی نے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے ۔ بولان کے علاقے مشکاف میں کوئٹہ سے پنجاب اور پشاور جانے والی ٹرین پر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کر لی۔آج 20 جنوری کو دوپہر 12:30 بجے ہمارے آزادی پسندوں نے کوئٹہ سے پنجاب اور پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو بولان کے علاقے مشکاف میں پنیر اسٹیشن کے قریب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی 8 بوگیاں تباہ ہوگئیں۔ انجن سمیت ٹرین پٹری سے اتر گئی۔
کالعدم بی ایل اے نے مچھ ٹرین حملے کی ذمہ داری قبول کر لی








