بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مقبوضہ جموںوکشمیر :بھارتی ریاستی دہشت گردی ، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ڈوزیئر جاری

اسلام آباد(ممتازنیوز) کشمیر میڈیا سروس نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے تعاون سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بیگناہ کشمیریوں پر گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈھائے جانیوالے مظالم کے اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔ اس کے مہمان خصوصی سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان تھے اور صدارت کنوینر محمود احمد ساغر نے کی۔جولائی 2022 سے دسمبر2022 تک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں اور جعلی مقابلوںمیں77بے گناہ کشمیریوںکو شہید کیا۔ا ورمقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس کی ہاتھوں جعلی مقابلوں اور جنگی جرائم کو بھی اجاگر کیاگیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور دیگر جرائم میں ملوث بھارتی فوجیوں نے گزشتہ چھ ماہ میں مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 300 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار اور درجنوں افراد کو زخمی کیا گیا جبکہ ایک نوجوان کو کپواڑہ علاقے میں گرفتاری کے بعد لاپتہ کیاگیارپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران کم از کم 17 صحافیوں کو ہراساں کیا۔ رپورٹ میں چار صحافیوں آصف سلطان، فہد شاہ، سجاد گل اور انسانی حقوق کے نامور محافظوں خرم پرویز اور محمد احسن اونتو کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کو بھی اجاگر کیاگیا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ چھ ماہ میں کشمیریوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں دو مرتبہ نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے گاو¿ کدل قتل عام کے شہداءکو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ گاؤ کدل قتل عام کی تلخ یادیں ابھی بھی کشمیریوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس بہیمانہ واقعے کو گزرے بتیس برس گزر چکے مگر متاثرہ خاندان تاحال انصاف کے منتظر ہیںبھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آرپی ایف) نے21 جنوری 1990 کو سرینگر کے علاقے گاو¿ کدل میں اندھا دھند فائرنگ کر کے پچاس سے زائد بے گناہ مظاہرین کو شہید کر دیا تھا۔ یہ مظاہرہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں متعدد خواتین کی بے حرمتی کے خلاف کیا جارہا تھا کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے گاؤکدل اور اس طرح کے دیگر سانحات نے نا م نہاد بھارتی جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے ۔ انہوں نے عالمی برداری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں مظالم پربھارت کو جواب دہ ٹھہرائے ۔ مقررین میں آزاد کشمیر کی رہنما ، کل جماعتی حریت کانفرنس، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان، سابق امیر جماعت اسلامی عبدل رشید ترابی، سابق ممبر اسمبلی آزاد جموں کشمیر فرزانا یعقوب ، کنوینر محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، شیخ عبدالمتین، الطاف احمد وانی،حسن البنا، امتیاز وانی، سلیم ہارون،طاہر مسعود، ایڈووکیٹ پرویز احمد، ریس میر، شاہ، زاہد اشرف، زاہد مجتبیٰ، راجہ نوازا احمد، شیخ محمد یعقوب، جاوید جہانگیر، عبدالمجید لون، منظور احمد ڈار، ، مشتاق احمد بٹ، راجہ شاہین، گلشن احمد، داود یوسفزئی، راجہ محمد زریں خان، حاجی سلطان بٹ، سناءوڈار ،خالد شبیر، قاضی عمران،شوکت حسین بٹ، بشیر عثمانی، آفسر خان، ندیم احمد، کفایت رضوی، محمد اشرف ڈار، شیخ عبدل ماجد، محمد شفیع ڈاراور دیگر شامل تھے۔مقررین نے کشمیر میڈیا سروس کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کو پوری دنیا میں اجاگر کرنے اور خطے کی سنگین صورتحال کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے اہم کردار اداکر رہا ہے۔انہوں نے مذکورہ رپورٹ پر” کے ایم ایس “کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رپورٹ کی سخت ضرورت تھی کیونکہ اگست 2019 سے پورا مقبوضہ کشمیر بھارتی فورسز کے محاصرے میں ہے۔مقررین نے حریت رہنماوں سمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔ شہداء کشمیر اور آزاد جموں وکشمیر کے سابق صدر جنرل (ر) سردارانور خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کی ہے۔