اسلام آباد(ممتاز نیوز )بانی اور سی ای او نٹ شیل گروپ، سابق وزیرمملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد احسن ظفر نے کہاکہ پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو 3 ارب ڈالرز سے کم ہے، جو 230 ملین سے زائد آبادی والے ملک کے لیے بہت کم ہے، جس کی وجہ سازگار ماحول کی عدم فراہمی اور سہولتوں کا فقدان ہےجبکہ وزیراعظم آفس کا کردار سازگار سرمایہ کاری ماحول کی فراہمی میں غیرمؤثر ہےان خیالات کااظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیراہتمام ”پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول: دی وے فارورڈ“ کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، گول میز کانفرنس کے ہائبرڈ سیشن کی میزبانی چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان نے کی۔ جب کہ آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سابق سفیر سید ابرار حسین نے مہمانو ں کا استقبال کیا۔ گول میز کانفرنس کا مقصد مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری کو درپیش چیلنجز اور موجودہ بحرانوں پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ معاشی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا تھا۔اظفر احسن نے اپنی بات کا آغاز تین اہم مسائل ”وژن کی کمی، سیاسی عزم اور تعاون کی ضرورت“ سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں جن معاشی بحرانوں کا سامنا ہے ان کی اہم وجہ نااہلی ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان میں کاروبار کرنا جہاد سے کم نہیں۔سرمایہ کاری میں حائل مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اظفر احسن نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو تعاون اور یقین دہانیوں کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ان کا منافع پاکستان میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی میں استعمال ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری کی ایک کامیاب مثال دوسروں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (پی ایس ایز) کی نجکاری ہونی چاہیے، کیونکہ پی ایس ایز قومی وسائل پر بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ نجکاری کمیشن کی کارکردگی مسائل کی درستگی اور ان کی نشاندہی کے حوالے سے مایوس کن ہے۔براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حوالے سے اظفر احسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو 3 ارب امریکی ڈالرز سے کم ہے، جو 230 ملین سے زائد آبادی والے ملک کے لیے بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سازگار ماحول کی عدم فراہمی اور سہولتوں کا فقدان ہے۔ بار بار تبدیلی اور انتظامی معاملات میں تسلسل کی کمی کے حوالے سے اظفر احسن کا کہنا تھا کہ وہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چوتھے چیئرمین تھے اور انہوں نے اپنے دور میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چھٹے چیئرمین اورپانچویں فنانس سیکریٹری کو تعینات ہوتے دیکھا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کو 6 سے 8 ممالک پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ازبکستان اور قازقستان کی سرمایہ کاری حکمت علمی پاکستان کے لیے بہترین مثال ہے۔ ان معیشتوں نے مختصر مدت میں غیرمعمولی ترقی کی ہے۔ ہمیں بیک وقت گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ، گورنمنٹ ٹو بزنس اور بزنس ٹو بزنس پر توجہ دینے کے ساتھ پاکستان میں ایسا ہی ایکو سسٹم بنانے کی ضرورت ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے اظفر احسن کا کہنا تھا کہ سی پیک غیرملکی سرمایہ کاری کی ایک بہترین مثال ہے۔ لیکن اس منصوبے سے بھرپور طور فائدہ اٹھانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کیے جارہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکومت پہلے ہی 22 ممالک میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) قائم کرچکی ہے۔ بی او آئی نے سفارش کی تھی کہ چین کے صدر شی کے ساتھ ملاقات میں یہ ایجنڈا سرفہرست ہونا چاہیے۔اظفر احسن کا ماننا ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے کسی سیاسی حکومت، بیوروکریسی یا فوج کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ یہ مشترکہ ذمہ داری اور مشترکہ ناکامی ہے۔ اس وقت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ کرنا ہماری مجبوری ہے، لیکن اگر ہم 1.1 ارب امریکی ڈالرز کا موازنہ پاکستان میں موجودہ سرمایہ کاری مواقع سے کریں تو یہ رقم اہمیت نہیں رکھتی۔ ہم تین سے پانچ سال میں پاکستان میں 6 سے 8 ارب ڈالراور آٹھ سے دس سال میں 15 ارب ڈالرز کی غیرملکی سرمایہ کاری لاسکتے ہیں۔ جس کے لیے پالیسیوں کے مستحکم فریم ور ک کی ضرورت ہے، جو کسی بھی سیاسی تبدیلی سے بالاتر ہو۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اور بڑی تشویش ایف بی آر کی کارکردگی اور پالیسیاں ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی فزیبلیٹی سے زیادہ بوجھ محسوس کرتے ہیں اور یہ استحصال کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان مسائل کو فوری حل کیا جانا چاہیے۔ ان پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے قومی سطح پر بین الاقوامی تناظر میں ہمیں مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف وزیراعظم کا آفس کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم کا آفس افسر شاہی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ذمہ دار ہے، لیکن ماضی میں کوئی بھی ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔









