بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مستنصر حسین تارڑ نے ادبی ایوارڈ لینے سے انکارکردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اردو کے معروف پاکستانی ادیب،کالم نگار اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے ملک میں ادب کا سب سے بڑا انعام کہے جانے والا ‘ کمال فن’ ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان میں مستنصر حسین تارڑ نے بتایا کہ گذشتہ دنوں اکادمی ادیبات پاکستان کی جانب سے کمال فن ایوارڈ کا اعلان کیا گیا، ایوارڈ کی بیس، اکیس سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ ایوارڈ کو تقسیم کردیا گیا۔

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ کسی ایک ادیب یا شاعرکو دیا جاتا تھا چاہے وہ کسی بھی زبان کا ہو تاہم اس بار اسے دو افراد میں تقسیم کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اس مرتبہ روایت کو پس پشت کیوں ڈالا گیا ؟ یہ ایسا ہی ہےکہ ستارہ امتیاز کو دو افراد میں تقسیم کردیا جائے کہ آدھا آپ کا ہے اور آدھا دوسرے کا، یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے، مجھے علم ہوا ہے کہ آدھا ایوارڈ ڈاکٹر اشو لال کو دیا گیا ہے تاہم انہوں نے اپنے نظریات اور خیالات کے باعث اسے لینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف میرے ساتھ بلکہ ڈاکٹر اشو لال کے ساتھ بھی زیادتی ہےکہ انہیں آدھا ایوارڈ دیا جائے۔

مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ 83 برس کی عمر اور 60 سالہ تخلیقی کاوش کے بعد میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس ایوارڈ کو لوں، جن افراد نے میرے حق میں ووٹ دیا ان کا شکر گزار ہوں۔

منفرد سفرناموں کے خالق مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر اپنے پڑھنے والوں کے مشکور ہیں جن کی وجہ سے وہ آج اس مقام پر ہیں، جو مجھے ہر کتاب پر کمال فن ایوارڈ دیتے ہیں اور مجھے آدھا نہیں پورا ادیب مانتے ہیں۔