اسلام آباد(ممتاز نیوز)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کی جانب سے کے۔ الیکٹرک کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو اے) کی درخواست پر سماعت 28 فروری 2023 کو کی جائے گی۔ ایف سی اے کی درخواست جنوری 2023 جبکہ کیو اے کی درخواست اکتوبر تا دسمبر 2022 کے دورانیے کے لیے دی گئی ہے۔
کے۔ الیکٹرک نے جنوری2023 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ میں 2 روپے 69 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے۔ طے شدہ قواعد و ضوابط کے ایف سی اے کا ہر ماہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کو صارفین کے بلوں پر صرف ایک ماہ کے لیے لاگو کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کے۔ الیکٹرک نے اکتوبر تا دسمبر 2022 کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے 7.366 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست دائر کی ہے۔ ملک میں لاگو یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت عمومی طور پر کیو اے کا اثر صارفین پر نہیں پڑتا، تاہم حتمی فیصلہ وزارت توانائی، حکومت پاکستان اور نیپرا اتھارٹی کرتی ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز بجلی کی پیداوار اور جنریشن مکس میں تبدیلی کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ کی وجہ سے یوٹیلٹیز کے ذریعے خرچ کیے جاتے ہیں۔ توانائی کے شعبے کی پالیسیوں کے تحت یہ اخراجات نیپرا کی جانچ پڑتال اور منظوری کے بعد صارفین تک براہ راست منتقل کیے جاتے ہیں، جسے صرف ایک ماہ کے بل پر لاگو کیا جاتا ہے۔ ایندھن کی قیمت کم ہونے پر صارفین کو فائدہ بھی ملتا ہے۔
جنوری 2023 کے لیے ایف سی اے میں اضافے کی بنیادی وجہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی سی پی اے۔ جی) سے خریدی گئی بجلی کی قیمت میں دسمبر 2022 کے مقابلے میں 67 فیصد اضافہ ہے۔
ترجمان کے۔ الیکٹرک کے مطابق ایف سی اے کی منظوری کے۔ الیکٹرک اور حکومتی ملکیتی اداروں (XWDISCOS) کے لیے نیپرا کی جانچ پڑتال اور عوامی سماعت کے بعد دی جاتی ہے۔ نیپرا اتھارٹی منظوری کے ساتھ اُس مدت کا تعین بھی کرتی ہے جس میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو صارفین تک بلوں کے ذریعے منتقل کیا جانا ہے۔ ایف سی اے کی درخواست کے۔ الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف میں دیے گئے طریقہ کار کے عین مطابق ہے، جس کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بجلی کی پیداوار اور جنریشن مکس میں تبدیلی کو صارفین کو منتقل کیاجاتا ہے۔
کے الیکٹرک کا تعارف
کے۔ الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جس کا قیام پاکستان بننے سے قبل 1913 میں کے ای ایس سی کے طور پر عمل میں آیا۔ 2005 میں کمپنی کی نجکاری کی گئی۔ کے۔ الیکٹرک پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط یوٹیلیٹی ہے، جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں سمیت 6500 مربع کلومیٹر علاقے کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے 66.4 فیصد حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹڈ ہیں اور کے ای ایس پاور کی ملکیت ہیں۔ یہ سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم ہے، جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، کویت کا نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ) اور انفرا اسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔ کے۔ الیکٹرک میں حکومت پاکستان کے بھی 24.36 فیصد حصص ہیں۔
کے الیکٹرک صارفین کےلئے بجلی مزید 2روپے 69پیسے اضافے کا امکان







