بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایشیا کپ میزبانی منسوخ ہوئی تو ورلڈکپ کا بائیکاٹ، پاکستان کی دھمکی

لاہور: چیئر مین مینجمنٹ کمیٹی برائے پی سی بی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو حاصل کرکٹ کے ایشیا کپ کی میزبانی کے حقوق منسوخ ہوئے تو بھارت میں ورلڈ کپ مقابلوں کا بائیکاٹ بہت حقیقی امکان بن جائے گا۔
نجم سیٹھی نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے ایشیا کپ مقابلوں کے لیے پاکستان کی میزبانی ایک طے شدہ بات ہے اور اگر حقوق منسوخ کر دیے گئے تو بہت حقیقی امکان موجود ہے پاکستان بھارت میں رواں برس ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ مقابلوں کا بائیکاٹ کر دے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت صرف دو ہمسایہ اور آپس میں روایتی حریف ممالک ہی نہیں بلکہ ان کے مابین بہت کشیدہ سیاسی تعلقات نے دوطرفہ بنیادوں پر کھیلی جانے والی کرکٹ کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ کرکٹ مقابلے گزشتہ تقریباً ایک عشرے سے بند ہیں جبکہ کثیرالملکی کرکٹ مقابلوں میں بھی دونوں ملکوں کی ٹیموں کے ایک دوسرے کے ساتھ میچ کسی تیسرے اور غیر جانبدار ملک میں ہی ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرکٹ کا ایشیا کپ ٹورنامنٹ اس سال ستمبر میں پاکستان میں کھیلا جائے گا لیکن ہمسایہ ملک بھارت کے کرکٹ بورڈ نے سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بات کو خارج از امکان قرار دے رکھا ہے بھارتی ٹیم ایشیا کپ کے لیے پاکستان جائے گی۔۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی طرف سے یہ پیشکش بھی کر رکھی ہے کہ ایشیا کپ کی میزبانی میں ’ہائبرڈ ماڈل‘ بھی اپنا سکتا ہے اور بھارتی ٹیم اگر چاہے تو ایشیا کپ کے میچ متحدہ عرب امارات میں بھی کھیل سکتی ہے۔
پی سی بی کی بھارت کو کی گئی پیشکش پر بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
بی سی سی آئی کی طرف سے پی سی بی کو ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم کے میچوں کے لیے مقام کے حوالے سے کی جانے والی پیشکش پر تاحال کوئی جواب نہ دیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اب کہا ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ پورے ایشیا کپ کا انعقاد ہی پاکستان سے باہر منتقل کر دیا جائے۔
نجم سیٹھی نے بتایا کہ ایسے کسی بھی ممکنہ اقدام کے 50 اوورز والے ون ڈے میچوں کے اسی سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ اور 2025ء میں پاکستان میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی تک پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ (بھارتی کرکٹ حکام) چاہتے ہیں کہ تمام میچ کسی نیوٹرل مقام پر کھیلے جائیں۔ بی سی سی آئی کو اس بارے میں کوئی بہتر اور منطقی فیصلہ کرنا چاہیے اور ایسی صورت میں ہمیں بھی ایسے کسی فیصلے پر عمل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ بھارت کو کسی ایسی صورتحال کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے، جہاں ہمیں ایشیا کپ اور ورلڈکپ کا بائیکاٹ کرنا پڑے اور بھارت کو آئندہ چیمپیئنز ٹرافی کا بائیکاٹ کرنا پڑے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایشیا کپ کی پاکستان سے کہیں اور منتقلی ناقابل قبول ہو گی اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان ورلڈ کپ کا بائیکاٹ بھی کر سکتا ہے۔