امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے عبوری معاہدہ طے پانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نےدعویٰ کیا ہے کہ فریقین کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ واشنگٹن کو امید ہے کہ اس پیش رفت کا باضابطہ اعلان بدھ کے روز کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ابتدائی طور پر 60 روزہ عبوری انتظام نافذ کیا جائے گا، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکے گی۔ اس دوران خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہاز ایرانی سمندری حدود سے گزرنے والی شمالی گزرگاہ استعمال کریں گے، جبکہ خلیج سے باہر بحیرہ عرب کی جانب جانے والے جہاز عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی راستے سے سفر کریں گے، جس کی نگرانی اور ہم آہنگی ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں گے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق عبوری مدت کے دوران جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ فریقین 30 روز کے اندر آبنائے کے درمیانی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
صفائی مکمل ہونے کے بعد یہی درمیانی راستہ مستقل انتظام کے تحت آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس کی تفصیلات بعد میں ایران اور عمان کے درمیان مستقل معاہدے کے ذریعے طے کی جائیں گی۔
مزیدپڑھیں:شہباز حکومت کی الٹی گنتی گننے والے خود اپنی گھڑیاں ری سیٹ کرنے لگے
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بھی تین ہفتے پہلے امریکا، عمان اور ثالث ممالک کو یقین تھا کہ معاہدہ طے پا جائے گا، تاہم ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر دوبارہ حملے شروع ہونے کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے، جس کے نتیجے میں دو ہفتوں تک شدید کشیدگی رہی اور خطہ مکمل جنگ کے دہانے تک پہنچ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کی دھمکی پر فوری عمل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو مزید موقع دیا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہو سکا تو واشنگٹن دوبارہ سخت عسکری کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق عمان کے علاوہ قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان حالیہ دنوں میں متعدد رابطے ہوئے، جبکہ ایرانی قیادت نے منگل کے روز مجوزہ معاہدے کی اصولی منظوری بھی دے دی، جس کے بعد معاہدے کے اعلان کی راہ مزید ہموار ہوگئی ہے۔









