بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کاروباررات 8 بجے بندکرانے کافیصلہ ناقابل قبول، ایک ارب ڈالربچانے کیلئے10 ارب کا نقصان کہاں کی دانشمند ی ہے،زاہد بختاوری

فیصل آباد(معظم رندھاوا)ڈویژنل صدرمرکزی تنظیم تاجران راولپنڈی ڈویژن زاہد بختاوری نے رات 8 بجے کاروباری مراکز بند کرنے کافیصلہ یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت کوخبردارکیاہے کہ ایک ارب ڈالربچانے کے لئے ریو نیو کی مد میں ملنے والے دس ارب ڈالرکانقصان کرناکہاں کی دانشمندی ہوگی ؟کاروباری مراکز بندکرنے سے معیشت کاپہیہ مفلوج کردیاجائے گا،یہ فیصلہ تاجربرداری کے لئے کسی طورپرقابل قبول نہیں،ملکی معشیت تباہ کرنے والے احکامات کوتسلیم کرنے سے انکارکرتے ہیں،اگرہم پرزبردستی احکامات صاد رکیے گئے تواحتجاج کرنے پرمجبورہونگے،نتائج کی ذ مہ دارحکومت خود ہوگی۔
حکومت کی جانب سے رات آٹھ بجے کاروباری مراکز بند کرنے کے احکامات پرویڈیولنک پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں تمام تحصیل اورڈسٹرکٹ کے ممبران نے شرکت کی ،جنہوںنے ڈویژنل صدر زاہد بختاوری کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومتی احکامات کی مخالفت کی۔
زاہد بختاوری نے اہم اجلاس میں ممبران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ تاجربرادری کاکاروبار پہلے ہی شدید بدحالی کاشکارہے،شہری جون کی تپتی دوپہرکے بجائے شام کے اوقات میں خریداری کرنے کوترجیح دیتے ہیں،ا ن اوقات کار میں کاروبار بند کرناکہاں کی دانشمندی ہوگی ۔حکومت تاجر برادری کوآمدہ بجٹ میں ریلیف دینے کے بجائے ان کی کاروباری مشکلات میں مزید اضافہ کاسبب بن رہی ہے ،بجٹ سے پہلے یہ حال ہے توبجٹ آنے کے بعد ہماراکیاحال ہوگا،پہلے ہی تاجر برادری جاں بلب ہے ،ہم باخوبی آگاہ ہیں کہ ٹیکس گزار پرہی چھری چلنی ہے ،کاروباری اوقات موسم گرمامیں رات گیارہ اورموسم سرمامیں رات دس بجے تک نافذالعمل ہونے چاہیں،حکومت کوملک کے وسیع مفادمیں اس طرح کے فیصلے لینے سے قبل تاجربرادری کواعتماد میں لیناچاہیے۔
ڈویژنل صدر زاہد بختاوری کاکہناتھاکہ حکومت ایک ارب ڈالر بچانے کے لئے ملکی معشیت کا کس قدر نقصان کرے گی اس کااندازہ حکومت کوہرگزنہیں،کاروبار قبل از وقت بندکرنے سے حکومت کو ریونیو کی مد میں دس ارب ڈالرکے خسارے کا سامنارہے گا،حکومت نے ایک ارب ڈالربچانے کے لئے اربوں روپے ملنے والے ریونیوکویکسر نظراندازکردیا۔حکومت اس حقیقت کوتسلیم کرے کہ پہلے ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کوٹیکس کی مد میں شارٹ فال کاسامناہے،اس پرایسے اقدامات شارٹ فال میں مزید اضافہ کاسبب بنیں گے،اس سے بزنس کمیونٹی کاکاروبار بھی شدیدمتاثرہوگا ،کاروبار بندہونگے توریونیومزید کم حاصل ہوگا،ملک مزید معاشی بدحالی کاشکارہوگا،جس کی ذمہ دار حکومت ہوگی،پھر ایک ہی حل باقی رہ جائے گاکہ تاجربرداری کوذبح کرکے ان کے خون سے ہی ٹیکس وصول کیاجائے۔
زاہد بختاوری نے حکومت کوخبردارکیاکہ اگرہم پربلاجوا زبوجھ ڈالاگیا،ہمارے کاروبار بند کیے گئے تواحتجاج کی راہ اپنانے پرمجبورہونگے ،اپنے حق کے حصول کے لئے آئینی راستہ اختیارکیاجائے گا۔