اسلام آباد(طارق محمود سمیر ) قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے قبل اگست کے پہلے ہفتے میں نگران وزیراعظم اور کابینہ کے لئے ناموں کو حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس سلسلے میں غیر رسمی مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے اور مختلف امیدواروں کے نام منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ وزیراعظم شہبازشریف اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے مشاورت کے بعد نگران وزیراعظم کی تقرری کریں گے ۔ ممتاز نیوز کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم کے امیدواروں میں سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے قبل سینئر صحافی محسن بیگ ،پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی، نجی ٹی وی چینل کے مالک میاں عامر محمود کے علاوہ لاہور کے معروف بزنس مین اعجاز گوہر اورسابق چیف جسٹس ریٹائرڈ انور ظہیر جمالی کے نام بھی موجود ہیں ، حفیظ شیخ جو تین مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ان کے بڑے قریبی تعلقات ہیں ، آئی ایم ایف کے ساتھ عمران خان کے دور میں متنازعہ معاہدہ کرانے میں بھی ان کا کردار تھا اور آئی ایم ایف کے نمائندے کے طور پر رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک بھی حفیظ شیخ نے بنوایا تھا تاہم بعض ایشوز پر اختلافات کے باعث حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ سے عمران خان نے ہٹا دیا تھا اور ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیرخزانہ بنایا۔حفیظ شیخ کو عمران خان نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسلام ابٓاد سے سینیٹر کا امیدوار نامزد کیا تھا تاہم سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دے دی تھی اور تحریک انصاف کے بیس ارکان نے بغاوت کرتے ہوئے حفیظ شیخ کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ حفیظ شیخ کا نام نگران وزیراعظم کے لئے اس لئے بھی زیر غور ہے کہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے اور معیشت کو صحیح راستے پر ڈالنے کے لئے حفیظ شیخ کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ علاوہ ازیں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی جنہیں 2018میں آصف زرداری اور سابق اسٹیبلشمنٹ نے چیئرمین سینیٹ بنوایا تھا اور بعد ازاں تحریک عدم اعتماد بھی ان کے خلاف ناکام ہوئی اور پی ڈی ایم کے 15سینیٹرز نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا تھا تاہم عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد صادق سنجرانی ن لیگ کے کیمپ میں چلے گئے اور ن لیگ کی اہم شخصیات کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی ان کے اچھے روابط ہیں اور ان کا نام بھی سنجیدہ امیدواروں میں شامل ہے۔ اس سے قبل سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو چیئرمین سینیٹ ہوتے ہوئے نگران وزیراعظم بنایا گیا تھا اور 2007 کے انتخابات ان کی نگرانی میں ہوئے تھے جن کے نتیجے میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی ۔ نیوز ایجنسی آن لائن کے مالک اور سینئر صحافی محسن بیگ کانام بھی بعض حلقے نگران وزیراعظم کے طور پر لے رہے ہیں ، محسن بیگ طویل عرصے تک امریکہ میں مقیم رہے اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں وطن واپس آکر میڈیا کا ادارہ قائم کیا اس زمانے میں ان کی معروف بیوروکریٹ طارق عزیز مرحوم سے قریبی دوستی ہو گئی تھی اور طارق عزیز کی وجہ سے پرویز مشرف سے بھی ان کے تعلقات بنے ۔ بعد ازاں پیپلزپارٹی کے دور میں سابق صدر آصف علی زرداری سے محسن بیگ کے قریبی تعلقات بن گئے ، محسن بیگ اور نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی آصف زرداری کے میڈیا معاملات کو دیکھتے تھے ، بعد ازاں محسن بیگ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بھی بہت قریب ہوگئے اوران کا میڈیا سل بھی چلاتے رہے ہیں تاہم عمران خان سے جب اختلافات پیدا ہوئے اور تجزیہ نگار کے طور پر محسن بیگ نے عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید کی تو عمران خان نے انہیں ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کریا ، ایف آئی اے نے محسن بیگ کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن وہ ڈٹے رہے اور ایک تاریخی فقرہ عدالت میں پیشی کے موقع پر کہا کہ خان تُو تو گیا اور پھر ایسا ہی ہوا جب موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی تقرری ہوئی تو محسن بیگ کا نام میڈیا میں بہت آیا کیونکہ محسن بیگ کے آرمی چیف کے ساتھ پرانے تعلقات تھے اور اسی تناظر میں بعض حلقے نگران وزیراعظم کے طور پر ان کا نام لیتے رہتے ہیں ۔معروف بزنس مین اعجاز گوہر کا نام بھی موجود ہے جو اپٹما کے صدر ہیں اور سابق صدر آصف زرداری کے بہت قریبی دوستوں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کا نام پیپلزپارٹی کی طرف سے ہی دیئے جانے کا امکان ہے ۔اعجاز گوہر نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے بھی قریبی دوستوں میں شمار کئے جاتے ہیں ، ممتاز نیوز کو ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا نام بھی نگران وزیراعظم کی فہرستوں میں موجود ہے۔ انور ظہیر جمالی کی سینئر وکلاء اور بعض ججز بہت تعریف کرتے ہیں جب پاناما کا سیکنڈل منظر عام پر آیا تھا تو اس وقت انور ظہیر جمالی چیف جسٹس آف پاکستان تھے اور ان کے پاس رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی کہ پاناما میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جائے تاہم جسٹس ریٹائرڈ انور ظہیر جمالی نے اس رٹ کو مسترد کر دیا تھا اور جب ثاقب نثار چیف جسٹس بنے تو پھر پاناما کیس کی سماعت کی گئی اور نوازشریف کو نااہل کیا گیا۔
نگران وزیراعظم کون ہوگا؟ ممکنہ نام سامنے آگئے








