بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قرآن پاک نذرآتش کرنے کامعاملہ ، تحریک انصاف آج چار سو سے زائد مرکزی مقامات پر پرامن احتجاج کرے گی،رئوف حسن

اسلام آباد(ممتازنیوز )پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے کہاکہ سویڈن میں قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کئے جانے کیخلاف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی کال پر تحریک انصاف آج چار سو سے زائد مرکزی مقامات پر پرامن احتجاج کرے گی،مرکزی اور مقامی تنظیموں کی جانب سے ملک گیر پرامن احتجاج کیلئے چار سو سے زائد مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی میڈیاسیل کے مطابق جمعہ کوسیکرٹری اطلاعات نے اپنے بیان میں کہاکہ اسلاموفوبیا اور مغرب میں اسلام اور شعائرِ اسلام کیخلاف نفرت انگیز اقدامات مہذب دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج ہیں،آزادی اظہار کی آڑ میں الہامی کتب، انبیاء اور مقدس ہستیوں کے حوالے سے توہین آمیز اقدامات شرفِ انسانی کے منافی ہیں،دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی قرآنِ پاک اور رسولِ مکرم علیہ الصلٰوتہ والسلام سے وابستگی بےحد گہری اور ہر مسلم کے ایمان کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلام امن و سلامتی کا دین، قرآن پاک علوم و حکمت کا سرچشمہ اور رسولِ محترم صلی اللہ علیہ وسلم تہذیب و اقدار کے امام ہیں،قرآن، پیغمبر علیہ الصلوٰتہ و السلام یا شعائرِ اسلام کی توہین کا دنیا بھر میں اربوں کی تعداد میں بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری اور مختلف الخیال اقوام کے مابین نفرت و تصادم کو ہوا دینے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو رب العزّت کے فضل سے یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے امت کے اس بنیادی مسئلے پر اہلِ عالم کو کامیابی سے جھنجھوڑا،عمران خان نے بطور وزیراعظم ایسے نفرت انگیز، قابلِ مذمت، غیرمہذّب اقدامات اور اسلاموفوبیا کے گھناؤنے تاریک پہلوؤں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔

رؤف حسن نے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت ہی کی کاوشوں سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے انسداد کا عالمی دن قرار دیا گیا،تحریک انصاف کے کارکنان نمازِ جمعہ کے بعد ملک بھر میں پرامن احتجاج کے ذریعے خصوصاً اہلِ مغرب کو اس مکروہ سلسلے کو فوری ترک کرنے کا پیغام دیں گے،چیئرمین عمران خان کی کال پر تحریک انصاف بیک زبان مغربی حکومتوں کو ایسے شرانگیز اقدامات کی سرپرستی ترک کرنے کا مطالبہ کریں گے، وقت آگیا ہے کہ اہلِ عالم خصوصاً مغربی ریاستیں آزادئ اظہار کی آڑ میں ان نفرت انگیز کارروائیوں کی اجازت دینے کی بجائے انہیں قابلِ تعزیر اور قابلِ مواخذہ جرم قرار دینے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔