بھارت نے راوی اور چناب میں پانی چھوڑ دیا۔ نئی دہلی کی طرف سے پاکستان کو مطلع کر دیا گیا۔
بھارت نے راوی اور چناب میں پانی چھوڑ دیا، پانی چھوڑنے کی پہلی اطلاع پاکستان کو بھارت کی جانب سے موصول ہو گئی ہے۔
بھارتی کمشنر نے سندھ طاس دفتر کو ٹیلیفون کر کے مطلع کیا کہ راوی کےمعاون اوج دریامیں 83 ہزار کیوسک پانی چھوڑ دیا، درمیانے درجے کا سیلاب ہوگا۔ چناب کے معاون دریا جموں توی میں 83 ہزار 400 کیوسک کا ریلا چھوڑا گیا۔
بھارت کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ مرالہ پر بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک جا سکتا ہے، درمیانے درجے کا سیلاب ہوگا۔
دوسری طرف ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر پنجاب کے نگراں وزیراعلٰی محسن نقوی نے دریائے راوی کا دورہ کیا اور متعلقہ محکموں کے حکام کو پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کرنے کی ہدایت کی۔
نگران وزیراعلٰی پنجاب کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے راوی سے 14 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطۂ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 8 اور 9 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، بہاول نگر اور اوکاڑہ) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔
اسی طرح زیریں سندھ (ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، نگرپارکر، اسلام کوٹ، مِٹھی، پڈعیدن، چھور، حید رآباد، جامشورو اور کراچی) کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ بارشوں کے باعث مری، گلیات، کشمی، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلادھاربارش کے باعث کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں اور ملحق برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خطرہ ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، شمالی بلوچستان، زیریں سندھ، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔
سیلابی پانی چھوڑنے کے بعد بھارت نے پاکستان کو مطلع کر دیا








