اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہت محنت کے بعد آئی ایم ایف پروگرام ہوا، 2 دن بعد آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ بھی ہو جائے گی۔ امید ہے ایک سے 2 سال میں زرعی معیشت بحال ہو گی، پھرہمیں قرضے نہیں مانگنے پڑیں گے۔ معاشی سیکیورٹی کو مضبوط بناناقومی سیکیورٹی کاتقاضا ہے۔ کسان اگرجعلی دواؤں کا شکار بنتا ہے تو بڑا نقصان ہو گا، اگرعدالتیں جعلی (زرعی) ادویات ختم نہیں کر سکتیں تو اس کے لیے ہمیں آرمی ایکٹ لاگو کر دینا چاہیے۔
فوڈ سکیورٹی پر قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1960کےبعدپاکستان میں دوسراسبزانقلاب لایاجارہاہے،زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، کسان پاکستان کی زراعت کیلئےشب وروزمحنت کرتےہیں، زراعت کی ترقی کیلئے کسانوں کووسائل دینےکی ضرورت ہے، زراعت کیلئےکسانوں کووسائل کی فراہمی حکومت کاحق ہے۔
انہوں نے کہاکہ آرمی چیف نے کہا یہ ہمارا وژن ہے، 75سال میں ایسےکئی وژن آئےاورگئے، ترقی کارازمسلسل عمل اورمحنت میں پوشیدہ ہے، 60کی دہائی کی زرعی ترقی سےہم کئی ممالک سےآگےنکل گئے، منگلااورتربیلاڈیمزبنانےسےملک میں زرعی انقلاب آیا، کسانوں کواس کاپورامعاوضہ ملناچاہیے، رواں سال ملک میں گندم کی ریکارڈپیداوارہوئی، امید ہونی چاہیے کپاس کی پیداواربھی پہلے سے اچھی ہو گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ کسان کوپوری قیمت ملےگی تووہ شوق سے محنت کرے گا، زرعی انقلاب آناہے،کسانوں کوبیج،کھادکی فراہمی حکومت کافرض ہے، کیڑےمکوڑوں کیلئےدوائیں فراہم کرنابھی حکومت کا فرض ہے، آرمی چیف کی دعوت پرگیاتوزبردست پریزنٹیشن دی گئی، جعلی دوائیں سول کورٹ سےختم نہ ہوں توآرمی ایکٹ لاگوکرناچاہیے، کسان اگرجعلی دواؤں کا شکار بنتا ہے تو بڑا نقصان ہوگا۔ہم نےجعلی دواؤں کامکمل خاتمہ کردیاتھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہمیں ملکراس بہت بڑےوژن کوعملی جامہ پہناناہے، میرٹ ایک طرف کرکےسفارش،اقرباپروری سکہ رائج الوقت بن گئی، پی آئی اے،اسٹیل ملزودیگراداروں میں600ارب کانقصان ہورہاہے، ہم نے ساڑھے 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کیا، ساڑھے 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کریں گے تو کیا بنے گا؟
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں ملکر اس بہت بڑے وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے، میرٹ ایک طرف کر کے سفارش، اقربا پروری سکہ رائج الوقت بن گئی، پی آئی اے، سٹیل ملز و دیگراداروں میں 600 ارب کا نقصان ہو رہا ہے، پاکستان مزید قرض لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا، نہیں بتا سکتے کس طرح منتیں، ترلے کر کے قرض لے رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ گرین پاکستان اینی شیٹو کیلئے خلیجی ممالک سرمایہ کاری کیلئے تیارہیں، 4سے5سال میں زراعت کیلئے 50 ارب ڈالر سرمایہ کاری کہیں نہیں گئی، اس پروگرام سے 40 لاکھ افراد کو نوکریاں ملیں گی، دیہات میں سمال اینڈمیڈیم انٹرپرائزز کے فروغ سے ملک کو فائدہ ہو گا۔ ماضی کوخیربادکہہ کرپاکستان کو کھویا ہوا مقام دلوائیں گے، گرین پاکستان اینی شیٹوہماراقومی فریضہ ہے، امید ہے ایک سے 2 سال میں زرعی معیشت بحال ہو گی، پھرہمیں قرضے نہیں مانگنے پڑیں گے۔ معاشی سیکیورٹی کو مضبوط بناناقومی سیکیورٹی کاتقاضہ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بہت محنت کے بعد آئی ایم ایف پروگرام ہوا، 2 دن بعد آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ بھی ہو جائے گی۔
دو سال تک زراعت کی بحالی سے قرض نہیں مانگنا پڑے گا،وزیراعظم








