بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئی ایم ایف پاکستانی پلان پر رضامند، ایگزیکیوٹیو بورڈ اجلاس آج ہوگا

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج ہوگا، آئی ایم ایف پاکستان کے ایکسٹرنل فنانسنگ پلان پر رضامند ہوگیا ہے اور وزارت خزانہ کے 8.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا پلان مان لیا ہے۔ جس کے تحت عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنانسنگ حاصل کی جائے گی۔ چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے بھی مدد ملے گی۔

جس کے بعد آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر قرض معاہدے کے تحت حاصل کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے بیرونی ادائیگیوں کے لیے 6 ارب ڈالر کی یقین دہانی مانگی تھی۔ تاہم، پاکستان نے آئی ایم ایف کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے 8 بلین ڈالر کی یقین دہانی کرائی تھی۔

چین پاکستان کو 3.5 بلین ڈالر فراہم کرے گا جس میں سے اسلام آباد دو بلین ڈالر ڈپازٹ میں رکھے گا، جب کہ بیجنگ کے کمرشل بینک ملک کو 1.5 بلین ڈالر فراہم کریں گے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کو بالترتیب دو اور ایک ارب ڈالر فراہم کریں گے۔

پاکستان کو ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے 250 ملین ڈالر کے علاوہ ورلڈ بینک سے 500 ملین ڈالر بھی ملیں گے۔

وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ جنیوا کانفرنس کے دوران 350 ملین ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ رقم بھی پاکستان آئے گی۔

واضح رہے کہ دوست ممالک سے فنانسنگ کی شروعات ہوچکی ہے، گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیے ہیں، جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 11.6 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2 ارب ڈالرز جمع کرانے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

وزیراعظم نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کل آئی ایم ایف کا بورڈ بیٹھے گا، دعا کیجئے کہ معاہدہ ہوجائے۔

معاہدے کو آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری ملتے ہی پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کر دیے جائیں گے، جبکہ بقیہ 1.8 ارب ڈالر نومبر اور اُس سے آگے فروری میں دوبارہ جائزوں کے بعد شیڈول کیے جائیں گے۔

قبل ازیں آئی ایم ایف کی ٹیم نے پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات میں بتایا تھا کہ نو ماہ کے اسٹینڈ بائی پروگرام میں ایک ارب ڈالر پی ڈی ایم حکومت، ایک ارب ڈالر نگران حکومت اور ایک ارب ڈالر الیکشن کے بعد بننے والی اگلی حکومت کو ملیں گے۔

خیال رہے کہ پچھلی توسیعی فنڈ سہولت 30 جون کو ختم ہوچکی ہے، جبکہ 9ویں، 10ویں اور 11ویں جائزے زیر التواء ہیں۔