بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان کی گرفتاری ، قانون اپنا راستہ اپنائے گا، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔ انتخابات کے بعد جو بھی پارٹی جیتی امید ہے وہ کام کرے گی۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والے واپس آ جائیں، راستہ بھولنے والوں کا خیر مقدم کریں گے۔ عمران خان کی گرفتاری پر قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔
نجی ٹی وی کوانٹرویومیں دانش سکولوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وڈیروں کوگوارانہیں کہ غریب کےبچےپڑھ لکھ جائیں، اس لیے وہ دانش اسکولوں کی مخالفت کرتے رہے، دانش اسکول کاوژن عرصہ سے میرے ذہن میں تھا، یہ وژن جلا وطنی کے دوران آیا اور 2008ء میں حکومت میں آ کر اس پر عمل کیا۔ 50ہزار کے قریب بچے اس پروگرام سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبوں کےحوالےسے مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہیں، ہمیں مشکل ترین حالات میں نظام کو سنبھالنا پڑا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاست چمکانے کیلئے نظام کو برباد کیا، نوازشریف کی حمایت کے بعد سب نےفیصلہ کیا سیاست جاتی ہے تو جائے ریاست بچانی ہے، اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آ چکا تھا، وفاق نے سیلاب کے دوران 100ارب روپے سے زائد خرچ کیے، صوبوں نے ساتھ مل کر بے پناہ کاوشیں کیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری سے بھی امداد ملی، دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی، یوکرین جنگ کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی تھیں، ہمیں مہنگائی اورسیلاب کاسامناتھا، سابق حکومت نے تباہی ہماری جھولی میں ڈالی تھی، تباہی سےنمٹنےکیلئےہم سب کو مل کر کام کرنا تھا، تحریک عدم اعتماد پر آئی ایم ایف معاہدےکی روگردانی کی گئی، آئی ایم ایف معاہدے سے روگردانی پر قیمتیں بڑھائی گئیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی رہنمائی میں آئی ایم ایف پروگرام منظورکرایا، سب سوال اٹھاتےتھےان حالات میں حکومت کیوں لی، سب کہتےہیں سارا گند چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹھانے دیتے، یہ حب الوطنی کاتقاضاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بین الاقوامی سے تعلقات خراب کیے، ایک شخص نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا تھا، چین، سعودی عرب، قطر، یو اے ای سے تعلقات پستی کی نچلی سطح پر تھے، آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدےکی دھجیاں اڑادی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کے روز نئے اسکینڈل آتے تھے، چینی، گندم، مالم جبہ، بی آر ٹی جیسے اسکینڈل ملکی جڑیں کاٹ رہے تھے، کیا ہم ان تمام حالات میں خاموش تماشائی بنے رہتے؟ کوئی شک نہیں سیاسی طورپرہماراووٹ بینک بہت متاثرہوا، مطمئن ہوں ریاست بچ گئی،سیاست کوداؤپرلگادیا، چین کےساتھ تعلقات میں بہت زیادہ خلیج آچکی تھی، بہت سےممالک سےتعلقات بحال ہوگئے، چیئرمین پی ٹی آئی نےملک دشمنی کی کوئی کسرنہ چھوڑی، چین کےخلاف بھری میٹنگزمیں بےہودہ الزمات لگاتےتھے، مجھ پرالزام لگایاگیاچینی کمپنیوں سے45فیصدکمیشن لیا، ہم نےآئی ایم ایف سےمعاہدہ کیا،روس سےسستاتیل لائے، کل ہمارےآذربائیجان سےسستی گیس کےایل این جی معاہدےپردستخط ہونگے، اپنی مرضی کے مطابق قدرتی گیس ہم سستے داموں لیں گے، ان حوالوں سے اب رات کو میں بہت سکون سے سوتا ہوں۔ اتحادی حکومت نے اپنی کوششوں سے سنگ میل عبور کیے۔
شہبازشریف نے کہا کہ 9مئی بدترین ملک دشمنی کاواقعہ تھا، 9مئی واقعات سےبڑی دشمنی ہونہیں سکتی ، ان واقعات کی فروری 2019کےبھارتی حملےکی مماثلت ہے، فرروی 2019ء کوبھارتی طیاروں نےپاکستان میں حملہ کیاتھا، ہم نےبھارتی پائلٹ ابھی نندن کوگرفتارکیا، یہ پاکستان کےاندرسےپاکستان کےخلاف سازش ہوئی ، سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی اوراسکےحواری تھے، فرق وہاں دشمن آیا یہاں چیئر مین پی ٹی آئی اوران کےجتھوں نےحملےکیے،ان واقعات کی بھرپورتیاری کی گئی جوکئی ڈیڑھ سال پرمحیط تھی، 9مئی کے دن پورا ملک اشکبار تھا، یہ کوئی معاملہ واقعہ نہیں بلکہ فوج میں“کو“کی قبیح حرکت تھی، 9 مئی کے واقعات فوج کے خلاف بدترین سازش تھی، اللہ نے اپنے فضل سے سازش کو ناکام بنایا اور پاکستان بچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ افواج اورعوام ایک تھے، ناصرف مذمت کی بلکہ الگ تھلک رہے، چندجتھوں نے شہداء اورغازیوں کی بے حرمتی کی، 9مئی کے دن شہداء کے اہل خانہ پر گیا گزری ہو گی، یہ چیئرمین پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ اورسازش تھی، ادارے اورحکومت ایک پیج پرتھے،آئینی اورقانونی راستہ اپنانےکافیصلہ کیاگیا، فیصلہ کیا گیا کسی کو بھی رعایت نہیں ملے گی، چیئرمین پی ٹی آئی کا اپرچیمبرخالی ہے، اس کوگا ئیڈاورسپورٹ کرنےکیلئےبےپناہ کوششیں اوروسائل صرف کیےگئے، اس نے اپنے لگانے والوں اور پاکستان کےخلاف بھی سازش کی، فیصلہ ہوا جنہوں نے سویلین مقامات پر حملہ کیا ان کے مقدمات سویلین عدالتوں میں چلیں گے، فیصلہ ہوا ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے، ایسی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا کہ دوبارہ کوئی ایسی مذموم حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ 9ا لیون ہوا تو گونتاناموبے وجود میں آیا، کیپیٹل ہل پرحملہ ہواتوسخت ترین سزائیں دی گئیں، لندن میں حملہ ہوا تو راتوں عدالتیں لگیں، 13سالہ بچی کوبھی سزاملی، یہاں توپاکستان اور افواج کےخلاف سازش کی گئی، کیا 9مئی کے بدلے ان کو لڈو اور پیڑے دیئےجائیں؟بھٹوکوجب پھانسی دی گئی،ایک جج نے خود کہا یہ عدالتی قتل تھا، کیاپیپلزپارٹی نے جلاؤ گھیراؤ اور تشددکےمعاملات کیے؟ بینظیرکوشہیدکیاگیاتوآصف زرداری نےکہاپاکستان کھپے۔ سندھ،پنجاب میں واقعات شروع ہوئے مگرآصف زرداری نےانہیں روکا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کہاگیاصبرکریں ہم پاکستان کےخلاف واقعات نہیں ہونےدیں گے، نوازشریف کےخلاف 2017میں دوبارہ سازش کی گئی، ثاقب نثارنوازشریف کےخلاف سازش کےسرغنہ اور پلیئر تھے، پانامہ میں 400 اور نام بھی تھے لیکن نوازشریف کو نشانہ بنایا گیا، نوازشریف نے 2013 سے 18 تک ملک کی حالت بدل کررکھ دی، نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کی، سڑکوں کا جال بچھایاتھا، نوازشریف کو اقتدار سے ہٹانے کا پلان بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف100دن بیٹی کےساتھ عدالتوں میں پیش ہوتےرہے، نوازشریف نےملک تودورکی بات کسی فرد کیخلاف بھی نہیں سوچا، میں نے کہا تھا جسے لانا چاہ رہے ہیں بعد میں نوازشریف فرشتہ صفت لگے گا، اب جتنا مرضی احساس ہو، وقت گزر گیا بربادی ہو گئی، قوم کی رگوں میں زہرگھول کر انہیں تقسیم کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے سو اسب کو چور ڈاکو بنانے کا پروپیگنڈا کیا گیا، ایسے واقعات درگزر کرنا مناسب نہیں ہو گا، پورا فریم ورک اور شفاف احتساب کا پلان بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےسازش کی، عمران خان بغیرکسی شک9مئی واقعات میں ملوث رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اپنی ویڈیوزموجودہیں، کہا گیا مجھے کچھ ہوا تو یہ لوگ بدلہ لیں گے میں ذمہ دارنہیں، ان کے چیلے چانٹوں کے میسجز بھی موجود ہیں، قریب ترین چیلے لوگوں کو مختلف مقامات پر بلا رہے تھے، 9 مئی کو وردیاں کس نے لٹکائیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی اس سازش کا موجدہے، سب کچھ اسی نے کیا، سابق وزیراعظم ہی سازش کا سب سے بڑا پلانر ہے۔ سویلین والے سویلین، ملٹری والے ملٹری کورٹ میں مقدمات پرسب متفق ہیں، اس معاملےمیں کوئی تمیزنہیں ہونی چاہیے، قانون حرکت میں آئےگا۔
انہوں نے کہا کہ مدت پوری ہونےسےکچھ دن قبل اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کرینگے، 75سال گزرنے کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کا مرہون منت ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف کی شرائط ہم پرلاگو ہیں، آزاد قوم کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ختم ہو چکا، ہمارے زر مبادلہ زخائر میں استحکام آ رہا ہے، معیشت کو ترقی اور خوشحالی کے سفر پر لے کر جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کا پلان بن چکا، ایس آئی ایف سی پاکستان کی معاشی ریکوری کا پلان ہے، ایس آئی ایف سی پروگرام میں زراعت، آئی ٹی و دیگر پروگرام شامل ہیں، ملکی آبادی میں 60 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، الیکشن کے بعد جسے بھی موقع ملا امید ہے وہ کام کرے گا، موقع ملا تو 5 سال میں پاکستان کی حالت بدل دیں گے، قرضوں سے جان چھڑائیں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، ہم نے پلان دے دیا اور عملی طور پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

ن لیگ چھوڑ کر جانے والے واپس آنا چاہئیں تو خوش آمدید کہیں گے
انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوڈس مینٹل کیا گیا، جنوبی پنجاب میں دوپٹے کس کو پہنائے گئے؟ جہازوں میں بھر کر کن کو بنی گالا لایا گیا؟ آرٹی ایس بند کیا گیا تاکہ ن لیگ کی حکومت نہ بنے، 2018ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی، شہروں میں نتائج روکے گئے کیونکہ ن لیگ جیت رہی تھی، دوپٹے پہن کر پی ٹی آئی میں جانے والے آج اپنی پارٹیاں بنا رہے ہیں، وہ سیاستدان ہیں ووٹ بینک ہے ان کا حق ہے جہاں مرضی جائیں، راستہ بھولنے والے ہمارے لوگ واپس گھر آئیں تو ویلکم کہیں گے، انہیں زبردستی راستے سے ہٹایا گیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی طرح نہیں کسی کو پکڑ کر اندر کرنے کا کہوں، قانون اپناراستہ اپنائے گا
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات پرجنرل مشاورت ہو گئی، راجہ ریاض اچھےانداز سے ملتے ہیں، راجہ ریاض نے ن لیگ کے ٹکٹ کا نہیں کہا، حکومت آئینی وقت پوراہونےپرچھوڑدیں گے، الیکشن کمیشن نےانتخابات کااعلان کرناچاہیے، چیئرمین پی ٹی آئی کوسزا میرے اختیار میں نہیں، عمران خان کو سزا نیب، عدالتیں اور دیگر فورمز کاکام ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرح نہیں کہ کسی کو پکڑ کر اندر کرنے کا کہوں، قانون اپناراستہ اپنائے گا، امید ہے الیکشن وقت پر ہوں گے اور نئی حکومت آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی کووقت سے پہلے توڑنے کی کیوں ضد لگائی گئی، وزیراعظم کا اختیار ہے وہ چاہے تو اسمبلی توڑ سکتا ہے، ہم نے ایک کمیٹی بنائی جس نے پی ٹی آئی سے بھی مشاورت کی، فارمولہ طے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں گے، کمیٹی نے بتایا چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن پر راضی نہیں، مولانا کو اعتراض تھا کہ میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گفتگو نہیں کروں گا، میں نے مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنے کی کوشش کی، وہ اس حد تک قائل ہوئے کہ آپ بات کریں لیکن میں نہیں کروں گا۔

## ** 53فیصد صارفین بجلی مہنگی ہونے سے متاثر نہیں ہوں گے**

انہوں نے کہا کہ سیلاب آیا تو مالی مشکلات عروج پر تھیں، وفاق نےپیٹ کاٹ کر 100ارب روپےصوبوں کو مہیا کیے، سندھ کو سب سے زیادہ، پھر بلوچستان، خیبرپختونخوا اورپنجاب کو حصہ ملا، روس سے سستا تیل ہماری اتحادی حکومت لائی، ہم نے 35 فیصد تک تنخواہیں بڑھائیں، یہ معمولی بات نہیں، سرکاری ملازم سمجھ رہا تھا 25 فیصد تنخواہ بڑھنا بھی کافی ہو گا، میں نے اور نوازشریف نے عوام میں سیاست کی ہے، آئی ایم ایف نے ہمارے تنخواہ بڑھانے کا فیصلہ ہضم کر لیا، پنشن سے متعلق عام خیال تھا کہ 7 سے 10 فیصد بڑھائی جائے گی، ہم نے پنشن ساڑھے 17 فیصد بڑھائی، کیا مشکل ترین حالات میں یہ معمولی اقدمات ہیں؟ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ غریب آدمی کاحق ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کل آذربائیجان سے سستی گیس کا معاہدہ ہو رہا ہے، آذربائیجان کے ساتھ بڑی کوششوں کے ساتھ معاہدہ کیا جا رہا ہے، آذربائیجان سے سستی گیس ملنے کا امکان ہے، گیس قیمت 3 ڈالر پر تھی تو سابق حکومت گہری نیند سو رہی تھی، ان کو ایک ہی خیال تھا کیسے 190ملین پاؤنڈ بچانے ہیں، 4 سال جیلیں بھگیتیں، کونسی عدالتیں ہمارے ریسکیو کیلئے آئیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی کے اسکینڈل کوعدالتوں نے اسٹے دیا، بی آرٹی سپریم کورٹ تک گیاپھرہائیکورٹ نےاسٹےدیا۔بی آرٹی کی تحقیقات روکی گئیں کیونکہ نیب نیازی گٹھ جوڑتھا، اورنج لائن کامنصوبہ بی آرٹی سےکئی گنا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نچلے طبقے کیلئے بجلی کے بل نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا، 53 فیصد صارفین اضافے سے متاثر نہیں ہوں گے، آئی ایم ایف نے بجلی کے بلوں پر سبسڈی دینے سے منع کیا، موقع ملا تو پہلے 6 ماہ میں مافیا، بجلی چوری و دیگرکاتدارک کریں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نےامیرترین بزنس ہاؤسزکو3ارب ڈالردیئے، امیرترین بزنس ہاؤسز کو 4 فیصد سود پر 3 ارب ڈالر دیئے گئے، کاش یہ پیسہ بچوں کو ملا ہوتا تو ملک کی تقدیربدل چکی ہوتی، اسمال میڈیم انٹرپرائززبناکران بچوں کو سکھایا جاتا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو تعلیم پر لگایا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، قرض لینے والے بڑے بزنس ہاؤسز کو شرم نہیں آتی، اب رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا، احتساب ہونا چاہیے، ان کی اہلیہ محترمہ اورفرح گوگی سفارشیں کرتی ہوں گی۔