واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شادی کے کچھ اخراجات روس کی ایک کاروباری شخصیت نے برداشت کیے تھے۔
اس کاروباری شخصیت کا نام عمر کریملیو ہے، جن کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا کی شادی مئی میں ہوئی تھی، اب دونوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات کی دو راتوں کی میزبانی عمر کریملیو نے کی تھی۔
عمر کریملیو انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے صدر ہیں، جوڑے نے اپنے بیان میں کریملیوف کو اپنا قریبی دوست قرار دیا ہے، ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا نے اسے ایک دوست کی جانب سے دیا گیا شادی کا تحفہ قرار دیتے ہوئے اس پر اظہارِ تشکر کیا۔
اس معاملے نے امریکی میڈیا میں ٹرمپ خاندان پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ان اخراجات کی تفصیلات پہلی مرتبہ پرو پبلیکا کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی تھیں۔
پرو پبلیکا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا ٹرمپ نے بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر شادی کی تھی۔ اس کے بعد شادی کی دو روزہ تقریبات ایک دوسرے جزیرے پر منعقد ہوئیں، جہاں ایک رات کے قیام کا کرایہ تقریباً ایک لاکھ ڈالر ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تقریب سے منسلک کئی دیگر اخراجات بھی کریملیو نے ادا کیے، جن میں تقریباً 70 ہزار ڈالر مالیت کا آتش بازی کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
پرو پبلیکا نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ کریملیو نے شادی کی تقریبات پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔امریکی حکومتی اخلاقیات کی نگرانی کرنے والی کئی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر کے بیٹے نے ایک ایسے شخص سے قیمتی تحائف قبول کیے ہیں جس کے روسی صدر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اگرچہ ٹرمپ جونیئر کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، تاہم یہ صورتحال مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہے۔









