کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی آگئی ہے، جس سے سیکڑوں مکانات تباہ ہوگئے اور فصلیں برباد ہونے کا خدشہ ہے۔ جبکہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے۔
نگراں وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دریائے راوی اور ستلج میں شدید سیلاب کا خطرہ ہے اور بھارت میں مزید بارش سے لاہور کا علاقہ شاہدرہ ڈوب سکتا ہے، زیادہ بارش سے چناب میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ راوی اور ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے دریائی زمین پر آباد افراد زیادہ متاثر ہوں گے۔
عامر میر نے بتایا کہ راوی کی بھارتی سائیڈ پر ڈیم 90 فیصد بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر بھارتی ڈیم 70 فیصد بھر گیا ہے، بھارت میں مزید 600 ملی میٹر بارش ہوئی تو شاہدرہ ڈوب سکتا ہے۔
بھارت نے دریائے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا ہے، قصور میں ہیڈ گنڈا سنگھ پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں، جھنگ میں تریموں بیراج کا پانی متعدد علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔
شکر گڑھ میں بھی راوی بپھرنے سے ہزاروں ایکٹر پر فصلیں زیر آب آگئیں۔
خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
اسی طرح دریائے سندھ میں چشمہ اور جناح بیراج پر حالیہ بارشوں کے باعث پانی کی آمد 3 لاکھ کیوسک سے بڑھ گئی ہے۔
مرید کے میں نارنگ منڈی بی آر بی نہر سائفن کے مقام پر بند ڈوٹ گیا۔
کراچی میں بارش، حادثے میں بچہ جاں بحق
کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے اور گزشتہ روز تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔
نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ملیر، لانڈھی اور شاہ فیصل سمیت مختلف علاقوں میں برسات ہوئی، جس سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔
بارش کے دوران بلدیہ اتحاد ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرنے سے بچہ جاں بحق اور ماں شدید زخمی ہوگئی۔
سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی رات گئے بادل ایک بار پھر برس پڑے۔
سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں موسلا دھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا اور متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے۔
بارش سے کھجور کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دریائے نیلم اور دریائے جہلم میں پانی کی سطح بلند
دوسری جانب مظفرآباد میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم گیا ہے، تاہم بارشوں سے دریائے نیلم اور دریائے جہلم میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔
گیارہ مکانات تباہ
وادی نیلم میں دودنیال نالہ میں طغیانی نے تباہی مچادی، طغیانی سے گیارہ مکانات تباہ ہوگئے اور چھ کو جزوی نقصان پہنچا۔
سیلاب آبادی کی طرف مڑ گیا
دریائے غذر میں بھی طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، حفاظتی پشتے ٹوٹنے سے سیلابی پانی آبادی کی طرف مُڑ گیا۔
بلوچستان میں 6 افراد جاں بحق سیلابی ریلہ گاؤں اور بازاروں میں داخل
ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان فیصل پانزئی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں میں 6 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، اموات کی معلومات ہمیں مختلف اضلاع کی انتظامیہ کی جانب سے موصول ہوئی ہیں۔
ڈائریکٹر فیصل پانزئی کے مطابق حالیہ بارشوں سے اموات آواران، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور نصیر آباد کے علاقوں میں ہوئیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے تمام متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے مکمل رابطے میں ہے۔
مکران ڈویژن کے متعدد علاقوں میں بھی شدید بارشوں سے کافی نقصان ہوا۔
مکران کی تحصیل بسیمہ کے علاقے پتک میں سیلابی ریلہ گاؤں اور بازاروں میں داخل ہوگیا، جس سے سیکڑوں مکانات تباہ ہوگئے۔
سیلابی ریلہ باغات کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدرسے میں بھی داخل ہو گیا۔ شیرینزہ میں بھی کئی بند ٹوٹ گئے۔
متاثرین نے پی ڈی ایم اے سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن شروع کرنے کی اپیل کردی ہے۔
بھارتی آبی جارحیت
بھارتی آبی جارحیت سے دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی پر عام شہریوں کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔
گزشتہ روز سوات کی تحصیل بحرین کے علاقہ مدین کوز کلے گٹ میں مکان پر پہاڑی تودہ گرنے سے دو بچے جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو اور مقامی لوگوں نے لاشوں کو نکال لیا۔









