بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صحافیوں، ورکنگ جرنلسٹس اور فنکاروں کے لئے ہیلتھ انشورنس وزیراعظم کا وژن تھا،مریم اورنگزیب

اسلام آباد(ممتازنیوز )وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ وزیراعظم نے عامل صحافیوں کے لئے ایک ارب روپے کے فنڈ مختص کئے ہیں،صحافیوں، ورکنگ جرنلسٹس اور فنکاروں کے لئے ہیلتھ انشورنس وزیراعظم کا وژن تھا،نواز شریف نے 2013ءمیں ہیلتھ کارڈ شروع کیا، سابق دور میں اس منصوبے کا نام بدلا گیا،صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کا آن لائن فارم جاری کیا جا رہا ہے،یہ رجسٹریشن فارم پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائیٹ پر موجود ہوگا۔
پیر کوصحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس فارم کے آن لائن اجراءکے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہاکہ صحافیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، وزیراعظم 7 اگست کو صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراءکریں گے،ہیلتھ انشورنس فارم کو آسان اور سہل انداز میں بنایا گیا ہے، صحت کے مسائل کے متعلق تمام تفصیلات فارم میں موجود ہیں، ہیلتھ انشورنس میں صحافیوں کو صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،ہیلتھ انشورنس اور صحافیوں کی تنخواہوں کے مسائل ہمیشہ سے رہے ہیں۔
وزیراطلاعات نے کہاکہ 14 ماہ کے دوران آئی ٹی این ای کے پلیٹ فارم سے 11 کروڑ روپے ریکور کر کے ملازمین کو ڈائریکٹ ادائیگیاں کی گئی ہیں،الیکٹرانک میڈیا میں پیمرا ترامیم کے ساتھ کم از کم اجرت، ملازمت کے تحفظ کو منسلک کر دیا ہے،وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس جلد یقینی بنائی جائے،صحافی برادری سمیت تمام ورکنگ جرنلسٹس کو اس میں شامل کیا گیا ہے، یہ منصوبہ پورے پاکستان کے لئے ہے، ملک بھر کے صحافی اس میں رجسٹریشن شروع کریں،حکومت کی طرف سے صحت کی سہولیات ملک بھر کے صحافیوں کے لئے ہیں۔

مریم اورنگزیب نےکہاکہ موجودہ حکومت میں صحافیوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی،الحمد اللہ اس دور میں صحافیوں کو تھپڑ نہیں مارے گئے، پسلیاں نہیں ٹوٹیں، گولیاں نہیں لگیں،موجودہ حکومت کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب نہیں ملا بلکہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے درجہ بندی میں سات درجے بہتری آئیموجودہ حکومت کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب نہیں ملا بلکہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے درجہ بندی میں سات درجے بہتری آئی۔

وزیراطلاعات نے کہاکہ ہیلتھ انشورنس کی اسکیم صرف پریس کلب کے ممبران کے لئے نہیں، یہ تمام صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہےہیلتھ انشورنس کی رجسٹریشن کے لئے کسی صحافی کا پریس کلب کا رکن ہونا لازمی نہیں، پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءکی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل تھے، کسی نے بھی اس بل کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی کوئی بیان دیا، پیمرا ترمیمی بل 2023ءپر ایک مخصوص ٹولہ پروپیگنڈا کر رہا ہے، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک میں جھوٹ بولیں گے اور پروپیگنڈا کریں گے انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہاکہ پی بی اے کی طرف سے پیمرا (ترمیمی) بل کے بارے بیان آ چکا ہے،شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے صحافیوں کی رجسٹریشن ڈیجیٹل فارم کے ذریعے ہوگی، پرائم منسٹر ہیلتھ کارڈ الگ سکیم ہے، صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس الگ اسکیم ہے،جو صحافی پرائم منسٹر ہیلتھ کارڈ سکیم سے مستفید ہو رہا ہے وہ صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس اسکیم کا اہل نہیں ہوگا۔