اسلام آباد(طارق محمود سمیر)وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا نام نگران وزیراعظم کے طور پر منظر عام پر آنے کے بعد پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کا سخت ردعمل آنا اسحاق ڈار کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور ان مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت اورگُرصرف میاں نوازشریف کے پاس ہے اور اسحاق ڈار کا نام میاں نوازشریف کی خواہش پر ہی دیا گیا ہے اور میڈیا میں اسحاق ڈار کے نگران وزیراعظم کے امیدوار ہونے کی خبر بھی اسحاق ڈار نے خود ہی ایک اخبار نویس کو دی جبکہ پیپلزپارٹی کی وفاقی وزیر شیری رحمن نے اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق رائے ہونے کی خبروں کو فیک نیوز قرار دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی اسحاق ڈار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو 2018میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کے وزیر خزانہ کے طور پرکام کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں نیب ان کیخلاف متحرک ہوا اور ان کیخلاف ناجائز اثاثہ جات سمیت دیگر مقدمات بنائے گئے اور سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور عمران خان انہیں ہر صورت جیل میں ڈالنا چاہتے تھے لیکن چوہدری نثار علی خان نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مشورہ کر کے وزیراعظم کا جہاز لیا اورسنٹرل ایشین ممالک میں ایک کانفرنس میں شرکت کرکے وہاں سے لندن چلے گئے اور وہاں تقریباً چار سال سے زائد عرصہ مقیم رہے ، اس دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کا پاسپورٹ تک ضبط کرا دیا اورنیب نے لاہور میں اسحاق ڈارکی رہائش گاہ کی نیلامی کر کے اسے فروخت کر دیا اور وزیر خزانہ کو عدالت سے اشتہاری قرار دلوا دیا گیا ۔ پی ڈی ایم حکومت قائم ہونے کے بعد مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا تو اسحاق ڈارکو جب پاسپورٹ مل گیا تو نوازشریف کے حکم پر مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر انہیں وزیر خزانہ بنا دیا گیا ۔شروع شروع میں تو اسحاق ڈار نے ڈالرکو ڈرایا لیکن بعد میں ڈالر ان کے قابو میں نہیں رہا اور ٹرپل سنچری کراس کر گیا ۔ وزیر خزانہ اپنے مزاج اور بلا وجہ کی بیان بازی کے باعث آئی ایم ایف کو ناراض کر بیٹھے اور معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا، حتیٰ کہ 20جون 2023کو وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے بغیر ملکی معاملات کو چلانے کی پلاننگ کی تاہم دورہ پیرس میں وزیراعظم شہبازشریف نے کمال مہارت اور کامیاب حکمت عملی سے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو معاہدے کے لئے قائل کیا اور پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا ۔ اسحاق ڈار تو بیرون ملک چلے گئے تھے یہاں پر جیلیں شہبازشریف ، شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل ،خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، احسن اقبال ، حمزہ شہباز، فواد حسن فواد اور احد چیمہ نے کاٹیں لیکن نگران وزیراعظم کے لئے قرعہ جو ہے اسحاق ڈارکے نام نکل آیا ۔پیپلزپارٹی کا سخت ردعمل آنا یہ واضح اشارہ ہے کہ اسحاق ڈارکے معاملے پر ابھی تک پیپلزپارٹی کی قیادت سے ن لیگ نے کوئی بات نہیںکی اور شیری رحمان نے آصف زرداری کی ہدایت پر پریس کانفرنس کی ہے ۔ پی ڈی ایم کے ترجمان اور مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی حافظ حمد اللہ نے بھی کہا ہے کہ جے یو آئی سے کوئی بات نہیںکی گئی ، اسحاق ڈار کا نام ن لیگ نے خود دیا ہے ہمارے قائد سے کوئی بات نہیںکی گئی ۔ اسحاق ڈارکا نگران وزیراعظم کے لئے امید وار کے طور پر آنا نہ صرف نوازشریف کی خواہش ہے بلکہ اس کے دو مقاصد ہیں ایک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانا اور دوسرا 90روز کے اندر عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے ، ویسے نگران حکومت غیر جانبدار ہوتی ہے اور آئین بھی یہی کہتا ہے کہ جو نگران وزیراعظم یا وزیر بنے وہ نہ صرف خود انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا بلکہ اس کا کوئی قریبی رشتہ بھی الیکشن نہیں لڑ سکتا لیکن اسحاق ڈارکے سمدھی نوازشریف خود الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور مریم نوازبھی الیکشن لڑنا چاہتی ہیں ۔اسحاق ڈارکے نگران وزیراعظم بنے پر انتخابی نتائج کون تسلیم کرے گا یہ ایک سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے اب دیکھتے ہیں آئندہ چند روز میں پیپلزپارٹی ، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق رائے کرتی ہیں یا کوئی نیا نام سامنے آئے گا اور سب سے بڑا سوال اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے کیا مشورہ دیتی ہے ۔
تجزیہ
اسحاق ڈارکانام نوازشریف کی خواہش پردیاگیا








