بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مقبوضہ کشمیر: حصول آزادی کےلئے جاری جدوجہد کے 35 سال مکمل

راولاکوٹ( اصف اشرف) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حصول آزادی کے لیے جاری مسلح جدوجہد کو آج پینتیس سال مکمل ہو گئے۔ 31جولائی 1988کو جے کے ایل ایف نے اپنے سربراہ قائد تحریک امان للہ خان کی قیادت میں سینٹرل ٹیلی گراف افس سری نگر میں یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے کر کے بھارت کے خلاف حالیہ گوریلہ جنگ کی شروعات کی تھی ان دھماکوں کے فوری بعد جب امان للہ خان نے جے کے ایل ایف کی طرف سے زمہ داری قبول کی تو دنیا بھر ہل گئی جے کے ایل ایف کے بھارتی مقبوضہ کشمیر زون کے سابق صدر عبدالقادر راتھر مرحوم کی نگرانی میں ارشد کول شہید ہمایوں ازاد شہید جاوید جہانگیر نے ساتھیوں سمیت دھماکے کیے اشفاق مجید وانی عبدالحمید شیخ یاسین ملک جاوید میر اعجاز ڈار سمیت صف اول کے قائدین بھارتی فورسز کی توجہ دوسری طرف مبذول کرنے دوسری طرف بھارتی فورسز کو الجھائے رہے اس تحریک کی شروعات جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے کی گئی سوا سال لیبریشن فرنٹ اکیلے گوریلہ جنگ لڑتا رہا بعد میں دیگر گروپ سامنے لائے گئے اشفاق مجید وانی با نی کمانڈر انچیف تھے اس تحریک کے پہلے شہید اعجاز ڈار رہے جو اٹھارہ ستمبر 1988کو اپریشن وٹالی میں شہید ہوئے اور اس تحریک کے پہلے غازی مقبول علائی تھے تحریک کی بانی جے کے ایل ایف کے تین کمانڈر انچیف اشفاق مجید وانی عبدالحمید شیخ نثار بٹ عرف جنرل بشارت رضا اور ایک صدر تنظیم شبیر صدیقی اس تحریک میں شہید ہوئے لیڈر شپ شہید کروانے جے کے ایل ایف سب سے نمایاں ہے موجودہ مسلح تحریک کی بانی تنظیم گو کہ اس وقت کہیں دھڑوں میں منقسم ہے اس کے باوجود جے کے ایل ایف کے دو بڑے دھڑوں کے سربرہان ملک یاسین اور بٹہ کراٹے فاروق ڈار بھارت کی سب سے بڑی تہاڈ جیل میں مقید ہیں بھارت دو نوں کو پھانسی دینے جا رہا ہے جے کے ایل ایف کا ایک سرکردہ حریت پسند شیخ نزیر بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے جبکہ جے کے ایل ایف کو ممنوعہ قرار دے کر بھارتی حکومت جے کے ایل ایف کی ہر طرح کی سرگرمیوں پر پابندی لگا چکا ہے بھارتی حکام کی پابندی کے باعث جموں کشمیر کے میڈیا پر جے کے ایل ایف کی کوریج پر بھی پابندی ہے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کو اس وقت عالمی عروج ملا جب جے کے ایل ایف کے جنگجوں بھارتی وزیر داخلہ کی بیٹی کو حفاظتی حصار میں لیکر بدلے میں چار ساتھی رہا کروانے کامیاب ہوئے یاسین ملک کی قیادت والا جے کے ایل ایف اب پر امن سیاسی جدوجہد کا نعرہ لگا کر اپنے منشور میں زیتون کے پتے کی شاخ شامل کر چکا مگر جے کے ایل ایف کے باقی دھڑے حتی کہ یاسین ملک کے نظم میں شامل اکثریتی کارکنان بھی نوے کی دہائ والے جے کے ایل ایف کا احیاء چاہتے ہیں جو زیتون کی شاخ کی جگہ کلاشنکوف کو شناخت بنائے تھا