بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

‘عمران خان نے 107 ملین کے تحائف اپنے پاس رکھے، اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں مگر اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا’ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے  دلائل میں کہا کہ عمران خان نے 107 ملین کے تحائف اپنے پاس رکھے، اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں مگر اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے حتمی دلائل ک آغاز کر دیا۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کررہے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کوئی ڈائریکشن، کوئی سٹے آرڈر ہے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کوئی سٹے آرڈر نہیں، 3 بجے ان کی درخواست پر سماعت ہے جس پر عدالت نے انہیں حتمی دلائل کی ہدایت کر دی۔

امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایسی بات نہیں کہ غلط اثاثہ جات جمع کروانا جرم نہیں، ایسا بھی نہیں کہ ایم این اے کو 30 دسمبر سے قبل اپنے سالانہ اثاثہ جات جمع کروانے کی ہدایت نہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے اقرار کیا اثاثہ جات انہوں نے خود الیکشن کمیشن میں جمع کروائے۔ ان کی جانب سے اثاثہ جات کا ریکارڈ جمع کروانے پر اب سوال نہیں، 18-2017 کے اثاثہ جات پرانہوں نے کہا کہ اپنے اور اہلیہ کے اثاثے انہوں نے خود جمع کرائے۔ غیر منقولہ پراپرٹی میں اپارٹمنٹس اور زرعی زمینیں آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے اقرار کیا کہ جو فارم بی میں جمع کروایا خود کروایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل نیازاللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے موقف دیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ میں دلائل ہو رہے ہیں تو نہیں ہونے چاہئیں۔

جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیئے کہ امجد پرویز دلائل دیدیں، خواجہ حارث بعد میں دیں گے۔ نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہم پر انڈیپنڈنٹ پریشر نہیں ہونا چاہئے، خواجہ حارث یہاں موجود نہیں تو دلائل کیسے دیں گے۔ ہمیں کہا گیا کہ ساڑھے 3 بجے تک سیشن کورٹ کی سماعت روک دی گئی ہے۔

فاضل جج نے چیئرمین تحریک انصاف کے وکالت نامے میں وکلا کی فہرست منگوا لی تو نیازاللہ نیازی نے کہا کہ عمران خان کے وکلا تو بہت ہیں لیکن دلائل خواجہ حارث دیتے ہیں۔

جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر ے گی ، صرف دلائل سنے گی۔ انہوں نے امجد پرویز کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ غیر منقولہ پراپرٹی میں عمران خان کی اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔ دستاویزات میں زمان پارک کے گھر کی تعمیراتی قیمت بھی لکھی ہے۔ عمران خان کا 300 کنال کا مکان موہڑا گاؤں میں ہے۔ ان کا 7 کنال سے زائد رقبے کا گھر زمان پارک میں ہے۔ 3 کنال کا مکان بنی گالہ میں اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام ہے۔ فارم کے مطابق عمران خان اور ان کی فیملی کسی بائیک یا گاڑی، ایک تولہ جیولری کی بھی مالک نہیں۔  عمران خان کی جانب سے جمع کرائے فارم میں صرف 5 لاکھ روپے کی گھر کی فٹنگ ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے 4 بکریاں 2 لاکھ روپے کی ہر سال ظاہر کیں ۔

امجد پرویز نے اپنے دلائل میں مزید کہاکہ عمران خان نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر کیس بنایا گیا، کوئی جھوٹا بیان حلفی جمع نہیں کروایا۔ گھڑیوں سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عمران خان اور انکی فیملی کے پاس نہ گاڑی اور نہ جیولری ہے۔ 300 کنال کے گھر میں چلنے کیلئے گاڑی چاہئے ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان معاملات کو اپنے فیصلے میں نہیں چھیڑا۔

انہوں نے کہا کہ اب بات توشہ خانہ کے تحائف کی کر لی جائے، ان تحائف کی خریدو فروخت کو نہیں جھٹلایا گیا۔ عمران خان نے 19-2018 میں توشہ خانہ کے 107 ملین کے تحائف بطور وزیراعظم رکھنے کا فیصلہ کیا جن کی 20 فیصد قیمت ادا کی گئی ۔ عمران خان نے 4 بکریاں ظاہر کر دیں مگر گاڑیاں اور جیولری ظاہر نہیں کی۔  جب 107 ملین روپے کے تحائف رکھے تو اثاثہ جات میں ظاہر نہیں کیا۔ عمران خان مانتے تو ہیں کہ تحائف رکھے مگر ظاہر نہیں کئے۔