بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر پاکستان نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید کردی

صدر مملکت عارف علوی نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تو ان قوانین سے اختلاف کرتا ہوں، میں عملے کو بل واپس بھیجنے کا کہنا تھا لیکن اس نے حکم عدولی کی۔

صدر مملکت عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کرنے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ میں نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے۔

صدر مملکت کا کہنا ہے کہ میں تو ان قوانین سے اختلاف کرتا ہوں، میں نے اپنے اسٹاف سے یہ بل واپس بھیجنے کا کہا تھا، لیکن ہمارے عملے نے میری خواہش سے اںحراف اور حکم عدولی کی، جو لوگ متاثر ہوں گے میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر صدر کے دستخط
گزشتہ روز خبر تھی کہ صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نےآفیشل سیکرٹ اورآرمی ایکٹ ترمیمی بلوں پر دستخط کردیے جس کے بعد دونوں قوانین اپنی ترمیم شدہ حالت میں نافذ ہوگئے ہیں۔

مدت ختم کرنے والی قومی اسمبلی نے جانے سے قبل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی منظوری دی تھی، اس ایکٹ سمیت قومی اسمبلی سے 9 بل منظور کیے گئے تھے۔

قومی اسمبلی میں بل پیش کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم ناگزیر ہے، یہ بل سرکاری دستاویزات کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بدلتے ہوئے سماجی منظر نامے کے تناظر میں یہ اس عمل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔

سینیٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل پیش کیے جانے پرحکومتی ارکان کے علاقہ اپوزیشن نے بھی شدید برہمی کا اظہارکیا تھا۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹررضا ربانی نے بل کی کاپیاں تک پھاڑ دی تھیں۔

اس بل پر جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم پاکستان، نیشنل پارٹی سمیت دیگر کےاحتجاج پر چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔

اس کے بعد آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اورآرمی ایکٹ سے کچھ متنازع شقیں نکال کر دوبارہ پیش کیا گیا جہاں سینیٹ سے منظوری کے بعد سمری دستخط کیلئے صدر کو ارسال کی گئی تھی۔