قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے خلاف فروری 2026 سے زیرِ التوا آئینی درخواست پر سماعت نہ ہونے پر پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی رہنما اکبر ایس بابر (Akbar S. Babar) نے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت سے فوری سماعت کا مطالبہ کردیا۔
اکبر ایس بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جس عدالتی فیصلے کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے خلاف دائر درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے کر اس پر کارروائی کی جارہی ہے، اسی فیصلے کی بنیاد پر انہوں نے بھی کئی ماہ قبل آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے، تاہم ان کی درخواست تاحال زیرِ التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 2018 SC 370 کی بنیاد پر ایک درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا گیا ہے تو پھر اسی قانونی بنیاد پر فروری 2026 میں دائر کی گئی ان کی آئینی درخواست پر سماعت کیوں نہیں کی جارہی؟
اکبر ایس بابر کے مطابق ان کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی (Justice (R) Shaukat Aziz Siddiqui) وفاقی آئینی عدالت کے رجسٹرار کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی اعتراضات کا جواب بھی جمع کراچکے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ آئینی درخواست پر اعتراض عائد کرنا رجسٹرار کا اختیار نہیں بلکہ اس معاملے کا فیصلہ عدالت ہی کرسکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف
اکبر ایس بابر نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ آئین اور سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں ان کی درخواست کو بھی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج
اکبر ایس بابر نے 24 فروری 2026 کو اپنے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت میں قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی (Mahmood Khan Achakzai) کی قائد حزب اختلاف کے طور پر تقرری کے خلاف آئینی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ 16 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا وہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے جس کے ذریعے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قرار دیا گیا۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر آئینی و قانونی طریقہ کار مکمل کرنے میں ناکام رہے اور قومی اسمبلی کے قاعدہ 39(3) کے تحت عائد اپنی لازمی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔
اکبر ایس بابر کے مطابق مذکورہ قاعدے کے تحت کسی امیدوار کی حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخطوں کی صداقت کے ساتھ ساتھ ان کی رضامندی کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ارکان کی حمایت اور دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کے بغیر قائد حزب اختلاف کی تقرری کی گئی ہے تو اس تقرری کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اکبر ایس بابر نے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان کی زیرِ التوا آئینی درخواست کو بھی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ ہوسکے۔









