سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے والی خاتون غیر مسلم تھی جس کا کہنا ہے کہ ہم، عام سویڈش ایسے اقدامات کے پیچھے کھڑے نہیں ہیں، مجھے سزا کا سامنا ہے لیکن افسوس نہیں ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر ایک ٹویٹ میں ڈنمارک کے صحافی رابرٹ کارٹر نے انکشاف کیا کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کو روکنے والی خاتون سسیلیا ساو غیر مسلم اور دو بچوں کی ماں تھی۔
After some searching, I managed to find the brave Swedish woman who went viral confronting notorious Quran burner with a fire extinguisher.
Cecilia Saav, a non-Muslim mother of two, attempted to save a Qur'an from the flame.
She told me: “We, ordinary Swedes, do not stand… https://t.co/esa2CNs6rt pic.twitter.com/ktggRrXSRc
— Robert Carter (@Bob_cart124) August 26, 2023
رابرٹ کارٹر نے بتایا کہ میں نے اس بہادر خاتون کو تلاش کرنے میں کامیاب رہا جس نے قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے بدنام زمانہ ملزم کا سامنا کرتے ہوئے آگ بجھانے والے آلات کا استعمال کیا تھا اور یہ سب وائرل ہوگیا تھا۔
رابرٹ کارٹر کے مطابق خاتون سسیلیا ساو کا کہنا ہے کہ ہم عام سویڈش ایسے اقدامات کے پیچھے کھڑے نہیں ہیں، مجھے اس وقت سزا کا سامنا ہے لیکن مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ 18 اگست کو سویڈن کے دارحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن کی بے حرمتی کی گئی تھی جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔
واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک خاتون ملعون ”سلوان مومیکا“ کی جانب بھاگتی ہیں اور اس پر سفید پاؤڈر چھڑکتی ہیں تاہم اس دوران انہیں سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے روکا اورساتھ لے گئے۔
پولیس ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی شناخت نہیں کی، ان کو امن عامہ میں خلل ڈالنے اور ایک پولیس افسر کے خلاف تشدد کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
حالیہ واقعے کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس اقدام کے خلاف احتجاج کئے گئے، جس کے بعد جمعہ 25 اگست کو ڈنمارک کی حکومت نے ایک بل پیش کیا کہ عوامی مقامات پر قرآن پاک سمیت دیگر مقدس صحیفوں کو جلانے پر پابندی لگائی جائے۔









