بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں ،سینئرصحافیوں کا چیف جسٹس کوخط

 

اسلام آباد(ممتازنیوز) سینئر صحافیوں نےچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام کھلے خط میں ان کی توجہ جبری گمشدگیوں اور حسان خان نیازی اور دوسرے گرفتارافراد کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کی طرف دلائی ہے۔  الطاف حسن قریشی، عطاالحق قاسمی، عبدالقیوم صدیقی، احمدبلال محبوب، عارف حمید بھٹی، عاصمہ شیرازی، اطہر کاظمی، اجمل شاہ دین، اجمل جامی، اسلم خان، ایاز امیر، اعظم چودھری، بے نظیرشاہ، چودھری غلام حسین، غلام مصطفیٰ میرانی، جاویدچودھری، جگنومحسن، کامران شاہد، کاشف عباسی، منصور علی خان، مظہر عباس، مظہربرلاس، مہر بخاری، مبشرلقمان، محمد مالک، سیدطلعت حسین، مجیب الرحمان شامی، ندیم ملک، نسیم زہرہ، رؤف کلاسرا، رضا رومی ، سلیم صافی،سلیم بخاری، سہیل وڑائچ، سید ارشاد احمد عارف ودیگر کی طرف سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو یہ خط کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے محافظ کے طور پر لکھ رہے ہیں تاکہ  پاکستان آئین کی سنگین خلاف ورزیوں اور 9 اور 10 مئی کے فسادات کے ملزمان سے نمٹنے میں قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزیوں کو آپ کے نوٹس میں لائیں۔اس ضمن میں  ایک مثال ہمارے رفیق کے بیٹے حفیظ اللہ خان نیازی، جو کہ میڈیامیں آئینی اور جمہوری اصول کے داعی ہیں،ا ن کے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کامعاملہ ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق پولیس نے 9 اور 10 مئی کے تشدد سے متعلق حسن نیازی کو 13 اگست 2023 کو گرفتار کیا تھا۔17 اگست 2023 کو انہیں فوج کی تحویل میں دیاگیا ۔اس کے بعد سے حسان نیازی کا پتہ نہیں چل سکا۔ متعلقہ حکام اس کے اہل خانہ کو اس تک رسائی نہیں دے رہے اور انہیں اس کی خیریت کے بارے میں  بنیادی معلومات دینے سے بھی انکار ی ہیں۔اسی طرح حسان نیازی کو دفاع  بشمول وکیل کرنے کاحق بھی نہیں دیا جارہا۔حسان نیازی کے معاملے کو خفیہ رکھنا جبری گمشدگی کے زمرے میں آتا ہےجسے سپریم کورٹ نے “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ   کوئی قانون نافذ کرنے والاادارہ کسی شخص کو اس کا ٹھکانہ ظاہر کیے بغیر طویل عرصے تکجبری حراست میں نہیں رکھ سکتا۔اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی قراردیا ہے کہ جبری گمشدگی سب سے گھناؤنے جرائم میں سے ایک جرم ہےجسے کسی بھی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔سینئرصحافیوں نے یہ بھی کہاکہ حسان نیازی سے سلوک حکومت کی طرف سے کرائی گئی ان یقین دہانیوں کی صریحاً منافی ہے جو اٹارنی جنرل آف پاکستان کی طرف سپریم کورٹ میں شہریوں کے فوجی ٹرائل کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کرائی گئی تھیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں حسان نیازی کی صحت اور حفاظت کے بارے میں بھی تشویش ہے۔خط میں سینئرصحافیوں سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ حکام کو حسن نیازی کے رکھے گئے ٹھکانے سے متعلق بتانے ، حسان نیازی کے اہل خانہ کو ان تک رسائی اور اسے اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کی اجازت دینے کی ہدایات جاری کریں ۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ وہ تمام دیگر افراد جو غائب ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں، خفیہ یا صوابدیدی حراست میں رکھے جانے والے سرکاری حراستی مقامات پر رسائی کے ساتھ رکھے جاتے ہیں،ان کے انسانی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنائیں۔