بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آپ نے سپیکر کو تحریری کارروائی کے ریکارڈ کیلئے درخواست کی؟چیف جسٹس کا وکیل درخواستگزار سے استفسار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے وکیل درخواست گزار  سے استفسار کیا کہ آپ نے خود سپیکر کو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں پوری سپریم کورٹ بیٹھ کر بے بنیاد دلیل سنے۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ  کیخلاف سماعت جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کر رہا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے دلائل اخباری خبروں کی بنیاد پر دیں گے،وکیل اکرام چودھری نے کہاکہ ہمارے پاس پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ نہیں ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے سپیکر کو تحریری کارروائی کے ریکارڈ کیلئے درخواست کی؟پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ آئینی ادارہ ہیں،اگر آپ نے اپنی معلومات تک رسائی کے تحت کارروائی کی درخواست نہیں کی تو یہ دلیل مت دیں،آپ نے خود سپیکر کو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں پوری سپریم کورٹ بیٹھ کر بے بنیاد دلیل سنے،وکیل اکرام چودھری نے کہاکہ میں پوری قوم کی طرف سے بات کررہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وہ خبریں نہ پڑھیں جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں،عدالت نے سیاسی بحث کیلئے استعمال نہ کریں،میڈیا موجود ہے وہاں کر سیاست کریں،قانونی دلائل دیجیے، یہ دلائل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کا حق سلب کیا،کچھ لوگو کا بھی خیال ہے اس قانون سے سپریم کورٹ اور پارلیمان آمنے سامنے آگئے،میں لفظ جنگ ااستعمال نہیں کروںں گا، ہماری پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے نمائندوں سے میٹنگ ہوئی،میٹنگ میں سینئر جج سردار طارق مسعود بھی موجود تھے،وکلا نے شکایت کی کہ ان کی بات نہیں سنی جاتی،کہا  گیا جب وکلا بات کررہے ہوں انہیں بات مکمل کرنے دی جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اب قانون بن چکا ہے،حسبہ بل کبھی قانون بنا ہی نہیں تھا،پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتا تھا یا نہیں اس بحث میں نہیں جانا چاہئے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آئین سے متصادم ہے یا نہیں یہ بتائیں۔