اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ملاقات جاری ہے، جس میں انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ صدر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے، ممبران الیکشن کمیشن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان ملاقات جاری ہے، جس میں انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کی گئی۔
اس سے قبل اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حوالے کیا۔
اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی۔
صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی۔
یاد رہے کہ عام انتخابات کے 90 روز کے اندر انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کرے اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرے۔
چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا اور ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ صرف انتخابات چاہتی ہے کسی اور بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، انتخابات کی تاریخ دینے کے بعد کسی درخواست کو نہیں سنا جائے گا۔
حکمنامے کے مطابق 5 دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہوں گے، حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا، انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار 4 فروری بنتا ہے، الیکشن کمشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہوں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے، صدر اور الیکشن کمشین کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، اور تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کریں گے۔
سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اپنا پروگرام عوام میں لے کر جائیں، جسے پسند آئے گا عوام ووٹ دے دیں گے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن صدر سے ملاقات کر کے کل سپریم کورٹ کو آگاہ کرے، فیصلے کی تین سرٹیفائڈ کاپیز ابھی دیں گے، دستخط شدہ کاپیز صدر مملکت، اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کو ابھی دی جائیں گی، الیکشن کمیشن اپنی اندرونی کارروائی آج ہی مکمل کرے، الیکشن کمیشن کل کچھ اور آکر نہیں کہہ دے۔
صدر علوی اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر مشاورت








