انسداد دہشتگردی عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اور وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی وزیرتعلیم مینا خان، ایم این اے شاہد خٹک اور صوبائی وزیراطلاعات شفیع جان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
عدالت نے چاروں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو گرفتارکرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے مزید پی ٹی آئی کے 4 ایم این ایزاور ایک ایم پی اے کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد تھانہ رمنا میں درج 975/24 مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے چاروں ملزمان کی حاضری اور مقدمے سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔
ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد پولیس کوان کی گرفتاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عدالتی احکامات پرعمل درآمد کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرے۔
تھانہ رمنا میں درج مقدمے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے جاری احکامات کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
عدالت کی جانب سے جن رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے گئے ان میں ایم این ایز مولانا نسیم علی شاہ، عامر ڈوگر، عاطف خان اور اقبال آفریدی شامل ہیں۔
عدالت نے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز ڈاکٹر امجد کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔انسداد دہشتگردی عدالت نے متعلقہ حکام کو تمام ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ یہ مقدمہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے2024 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیے گئے احتجاج اورمظاہروں کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی سمیت دیگرمطالبات کے لیے 24 نومبر2024 کواسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی، جس کے بعد کارکنان اور قافلے دارالحکومت پہنچے تھے۔
احتجاج کے دوران ڈی چوک جانے کی کوشش پرپولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ مختلف مقامات پر مبینہ توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔
پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا اور اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے انہی مقدمات میں تھانہ رمنا کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پارٹی نے مجوزہ احتجاج کو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عمران خان کی رہائی کی تحریک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں مجوزہ احتجاج کے خلاف دائر درخواست کی الگ سے سماعت بھی جاری ہے۔
10 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ احتجاج سے وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:7 ارب ڈالر توسیعی فنڈ فیسلٹی پروگرام؛ آئی ایم ایف سے مذاکرات رواں ماہ ہونگے
درخواست میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مجوزہ احتجاج کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل اور سرکاری مشینری کا ممکنہ طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔









