سندھ کی موجودہ جغرافیائی اور انتظامی حدود ہمیشہ سے ایسی نہیں رہیں بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کا نقشہ کئی بار تبدیل ہوتا رہا ہے۔ حکمرانوں، سیاسی فیصلوں اور انتظامی ضرورتوں کے تحت سندھ کبھی وسیع خطے پر مشتمل رہا اور مختلف ادوار میں اس کی حدود سکڑتی اور پھیلتی رہیں۔
قدیم دور میں سندھ کی حدود موجودہ صوبے سے کہیں وسیع تھیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ خطہ بحیرۂ عرب سے کشمیر تک اور مکران سے راجپوتانہ تک پھیلا ہوا تھا جبکہ پنجاب کے بعض علاقے بھی مختلف ادوار میں اس کے زیرِ اثر رہے۔
مغل دور میں سندھ کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کیا گیا، جن کے مراکز بکھر اور ٹھٹھہ تھے۔ مغلوں کے بعد کلہوڑوں اور تالپوروں نے مختلف علاقوں کو دوبارہ متحد کیا، تاہم خیرپور الگ ریاست کے طور پر موجود رہا۔
برطانوی دور میں 1843ء میں سندھ پر قبضے کے بعد 1847ء میں اسے بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا گیا۔ سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں یکم اپریل 1936ء کو سندھ کو دوبارہ الگ صوبے کا درجہ حاصل ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد بھی سندھ کا انتظامی نقشہ تبدیل ہوتا رہا۔ 1948ء میں کراچی کو وفاقی علاقہ بنایا گیا، 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے باعث سندھ کی صوبائی حیثیت ختم ہوئی، جبکہ 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد کراچی دوبارہ سندھ کا حصہ بنا اور ریاست خیرپور بھی صوبے میں شامل ہوگئی۔ یوں سندھ موجودہ انتظامی شکل میں سامنے آیا۔
تاریخ کا یہ سفر واضح کرتا ہے کہ انتظامی حدود مستقل اور ناقابلِ تبدیلی نہیں ہوتیں۔ آج جب نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث جاری ہے تو بنیادی سوال سندھ کی شناخت یا ثقافت کا خاتمہ نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی، آبادی کے بڑھتے دباؤ اور عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کا ہے۔
مزید پڑھیں:سہیل آفریدی سمیت 9 رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
نئے صوبوں کی بحث کو سندھ کی شناخت کے خلاف قرار دینے کے بجائے اسے انتظامی ضرورت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ماضی میں حالات اور انتظامی تقاضوں کے مطابق سندھ کی حدود اور ڈھانچہ تبدیل ہوتا رہا ہے تو آج بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور حکمرانی کے مسائل کے پیش نظر انتظامی تقسیم پر غور کیوں نہیں کیا جاسکتا؟









