بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بڑوں کا فیصلہ‘ الیکشن 8فروری کو‘ایوان صدر کا اعلامیہ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر اتفاق ہوگیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمعہ کو الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کی طرف سے صدر مملکت عارف علوی سے مشاورت کی رپورٹ پیش کی جائے گی اور پھر سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی ، اس سے قبل سپریم کورٹ کو 11 فروری کو انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی ،حتمی تاریخ سامنے آنے کے بعد انتخابات کے التوا اور نگران سیٹ اپ کے زیادہ عرصہ تک چلنے کی تمام ترافواہیں و خدشات دم توڑ گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں 28 جنوری کی حتمی تاریخ بھی طے کر لی گئی تھی لیکن جے یو آئی (ف) کو عین سردیوں میں انتخابات کے انعقاد پر شدیدتحفظات تھے،مولانا فضل الرحمان چاہتے تھے کہ انتخابات 20 فروری تک منعقد ہوں اس معاملے پر انہوں نے الیکشن کمیشن سمیت مختلف فریقوں سے رابطے کئے،تمام تر کوششوں کے باوجود وہ انتخابات کو 20 فروری تک لے جانے میں کامیاب تو نہ ہوسکے تاہم الیکشن کمیشن کو 11 فروری تک کے لیے قائل کرنے کامیاب ہوگئے۔سپریم کورٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ پر صدرمملکت سے مشاورت کا حکم دینے پر یہ تاثر پیداہوا کہ شاید انتخابات کی تاریخ دینے کااختیارصدر کا ہی ہے لیکن درحقیقت الیکشن کمیشن کی صدر سے مشاورت رسمی ہے کیونکہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں ترمیم کے بعدچونکہ انتخابات کی تاریخ یا تاریخیں دینیکا اختیار الیکشن کمیشن کو مل چکاہے ۔دراصل صدر سے مشاورت سے متعلق عدالتی حکم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ سے اعلان کردہ تاریخ پر کسی فریق کو کوئی اعتراض نہ ہو یقیناً چیف جسٹس فائز عیسیٰ کا یہ اقدام لائق تحسین ہے ۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہے، ہم الیکشن کی تاریخ بدلنے نہیں دیں گے، اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے، عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائے گی۔ یہ امربھی قابل ذکر ہیکہ الیکشن کمیشن کی طرف انتخابات کی تاریخ سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد دی گئی ہے جیسا کہ پہلے کہا جا رہا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نوازشریف کی واپسی سے منسلک ہے، نوازشریف کی واپسی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بھی جلدانتخابات کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔سابق اپوزیشن لیڈر اورفیصل آباد سے (ن) لیگ کے رہنما راجہ ریاض کی نگران وزیراعظم کی تقرری کے بعد الیکشن سے تاریخ سے متعلق دی گئی پیشگوئی بھی درست ثابت ہو گئی ہے اور نگران حکومت قائم ہونے کے بعد راجہ ریاض نے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عام انتخابات 15فروری سے چند روز قبل یا چند روز بعد ہوں گے ۔ لگتا ہے بڑوں کے فیصلے کی روشنی میں ہی الیکشن کمیشن نے 11فروری کی تاریخ سپریم کورٹ میں دی ہے اورراجہ ریاض جو بڑوں کے بہت قریب ہیں ان کی دوسری خبر درست ثابت ہوئی ہے اور نگران وزیراعظم کو بنانے میں شہبازشریف سے زیادہ راجہ ریاض کا کردار رہاہے کیونکہ راجہ ریاض کو ہی بڑوں نے ایک پرچی پر نام لکھ کر دیا تھا کہ انوارالحق کاکڑ نگران وزیراعظم ہوں گے ۔تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے 11فروری کی تاریخ کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور حیران کن بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف جس کا یہ اصولی موقف رہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز کے اندر ہونے چاہئیں اور 90 روز 6 نومبر کو پورے ہو رہے ہیں ۔ تحریک انصاف نے بھی 11 فروری کی تاریخ کی حمایت کر دی ہے اور بیرسٹر علی ظفر جو عمران خان کے وکیل اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ اگر 11فروری کوبھی الیکشن ہو جائیں تو اچھی بات ہے ۔وہی الیکشن کمشنر جو چند ماہ قبل صدر کے خط کا جواب نہیں دے رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ الیکشن کی تاریخ دینا ہمارا اختیار ہے لیکن اب وہ چیف جسٹس کے حکم پر صدر کے پاس جا پہنچے ، اٹارنی جنرل بھی ان کے ہمراہ تھے ، صدر کو باضابطہ خط بھی لکھ دیاہے ،علاوہ ازیں ایوان صدر سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں عام انتخابات 8فروری کو کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عسیٰ نے اس ضمن میں جو کردار ادا کیا ہے وہ خوش آئند ہے کیونکہ انہوں نے الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کے تنازع میں پڑے بغیر الیکشن کی حتمی تاریخ طے کروادی ہے اور ایوان صدر سے پریس ریلیز کا جاری ہونا اس لئے اہم ہے کہ صدر کے آئینی اختیار اور ان کے عہدے کا بھی احترام کیا گیا ہے ۔