اسلام آباد(طارق محمود سمیر)سپریم کورٹ نے دو دن کی سماعت کر کے عام انتخابات 8فروری 2024 کو منعقد کرانے کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر کے انتخابات کے حوالے سے تمام افواہوں اور کنفیوژن ختم کر دی ہے اور ملک میں معیشت بھی استحکام کے راستے پر چل پڑی ہے اورملکی تاریخ میں 6 سال بعد سٹاک ایکسچینج کی بلندی کا ایک نیا ریکارڈ
قائم ہو گیا ہے کیا وہ لوگ اب اپنے ٹویٹ ڈیلیٹ کریں گے یا قوم سے معافی مانگیں گے جو ترجمان بن کر 2017میں یہ واویلا کیا کرتے تھے کہ ملکی معیشت درست نہیں ہے آج کی سٹاک ایکسچینج کے بلندی کے ریکارڈ کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 2017میں معیشت صحیح ٹریک پر تھی لیکن منتخب حکومت کو ہٹانے کی منصوبہ بندی کی گئی اور نوازشریف کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش تو کامیاب ہوئی مگر ملک کو بحران میں مبتلا کر کے لاڈلے کو اقتدار دلوایا گیا اور لاڈلے نے ملکی معیشت کا جو حشر کیا اسے بہتری کی طرف لانے میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اپنی سیاسی ساکھ دائو پر لگانا پڑی مگر اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ شہبازشریف نے جو مشکل فیصلے کئے تھے اس کے ثمرات قوم کو آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو گئے ہیں اور سٹاک ایکسچینج کا 6 سالہ ریکارڈ ٹوٹنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ملک میں حالات بہتر ہو رہے ہیں اور بالخصوص انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونا اور سپریم کورٹ کی طرف سے ثالث کا کردار ادا کرناخوش آئند بات ہے ۔عوامی حلقوں میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حالیہ چند فیصلوں کی پذیرائی ہو رہی ہے اور چیف جسٹس نے اس بحث میں پڑے بغیر ماضی میں کیا ہوا ، کس کا کیا کردار تھا ، مستقبل کا سوچا اور دو دن کے اندر انتخابات کرانے کا مسئلہ حل کیا ۔ الیکشن کمیشن کو اس صدر مملکت کے پاس بھجوایا جس نے پوسٹ آفس کا کردار ادا کرتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف بدنیتی پر مبنی ریفرنس دائرکیا اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ریفرنس میں نے نہیں دائرکیا وزیراعظم ہائوس نے سمری بھجوائی تھی بہرحال اس وقت جو بھی ہوا وہ ایک تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اب ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اب تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ الیکشن سے متعلق بلاوجہ شکوک و شہبات پیدا کرنے کی بجائے الیکشن کو پرامن ، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔الیکشن کے نتائج جو بھی آئیں تمام سیاسی جماعتیں کھلے دل سے انہیں تسلیم کریں ۔ الیکشن کمیشن الیکشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے نہ آرٹی ایس کو بیٹھنا چاہئے اور نہ ہی واٹس ایپ گروپ کے ذریعے فیصلے کئے جائیں ۔ سیاسی جماعتوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نفرت ، تقسیم اور کشیدگی کی فضا میں کمی لانے کے لئے بہتری لائیں اور نفرت انگیز بیانات دینے کی بجائے تمام سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل اپنے منشور پیش کریں جن میں ملکی مسائل کے حل اور غریبوں کے حالات بہتر بنانے ، بجلی کے بلوں میں کمی کیسے لائی جاسکتی ہے ، پٹرول کیسے کم کیا جاسکتا ہے ، روز گار کس طرح ملے گا ، مہنگائی کیسے کنٹرول ہو گی جیسے مسائل پر فوکس کیا جائے ۔ (ن) لیگ نے عرفان صدیقی کی سربراہی میں منشور کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ باقی سیاسی جماعتیں بھی جلد اپنی اپنی جماعتوں کی منشور کمیٹیاں بنا دیں گے۔
سپریم کورٹ نے عام انتخابات پرکنفیوژن ختم کردی








