اسلام آباد(ممتازنیوز)آل پاکستان چائنیز انٹرپرائزز ایسوسیشن اور پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے “پپس” میں سی پیک کی 10 سال مکمل ہونے پر “Thousand of Miles with CPEC” کے عنوان سے رپورٹ لانچنگ تقریب کاانعقاد کیاگیا۔
تقریب میں سینیٹر مشاہد حسین سید، نگران وزیر اطلاعات۔ مرتضی۔ سولنگی، چینی سفیر یانگ زیڈونگ ، پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈاریکٹر مصطفی حیدر سیداور چئیرمین آل پاکستان چائنہ انٹرپرائزز ایسوسیشن کے چئیرمین یانگ ژیانڈو نے شرکت کی۔
چئیرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی کو تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر تقریب میں شرکت نہیں کرسکے
پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مصطفی حیدر سید نےچیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا پیغام سامعین کو پڑھ کر سنایا
اس تقریب کے کامیاب انعقاد پر آل پاکستان چائنیز انٹرپرائزز ایسوسیشن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں
چینی سفیر کی یہاں موجودگی اور پاکستان -چین کے درمیان تعلقات کومزید بہتر بنانے کیلئے ان کی تمام کوششوں کو سراہتا ہوں
مجھے امید ہے کہ چینی سفیر اور ان کی ٹیم دوطرفہ تعاون اور باہمی احترام کے اعلیٰ ترین معیارات قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے
آج، ہم ‘CPEC کے 10 سال’ کی کامیابیوں کا جشن منا رہے ہیں
سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہےجو پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار دوستی کی علامت ہے
پاکستان میں کام کرنے والے چینی ادارے اور تنظیموں کا کردار بھی دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مضبوط بنانے میں اہم رہے ہیں
پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی جڑیں تاریخ، باہمی احترام اور غیر متزلزل حمایت سے جڑی ہیں
دونوں ممالک کا رشتہ سرحدوں اور ثقافتوں سے ماورا ہے، جو دنیا کے لیے ایک نمونہ ہے
چین کو اقتصادی پاور ہاوس بنانے میں چینی قیادت، خاص طور پر صدر شی جن پنگ، ان کے شاندار وژن اور انتھک محنت قابل ستائش ہے جس نے دنیا کو متاثر کیا ہے
بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے منصوبے کا مقصد نہ صرف ہمارے خطے بلکہ اس سے باہر بھی رابطے، تعاون اور باہمی ترقی کو فروغ دینا ہے
اس کی مسلسل کامیابی دونوں قوموں اور ان کے لوگوں کے عزم اور محنت کی علامت ہے
’CPEC کے 10 سال’ مکمل ہونے پر رپورٹ کا اجراء ایک اہم سنگ میل ہےجس میں قابل ذکر پیش رفت اور اب تک کی کامیابیوں کا احاطہ کیا گیا ہے
میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی لگن اور محنت کو سراہتا ہوں
ابھرتا ہوا شہر گوادر اور اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے جال سے ملحقہ دیگر علاقے، خاص طور پر” خصوصی اقتصادی زونز” میں چینی صنعتوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں
جس سے پاکستان میں روزگار اور برآمدات بڑھیں گی اور دوسری طرف چینی کمپنیوں کی بین الاقوامی منڈیوں تک آسان رسائی اور کاسٹ ایفیکٹیو لیبر میسر ہوگی
سی پیک کی دس سالہ رپورٹ ایک قیمتی وسیلہ ہے جو ہمیں ہماری مشترکہ پیشرفت کا تازہ ترین جائزہ فراہم کرتی ہے
ایک ساتھ مل کر اپنی قوموں کو خوشحالی اور بہتر مستقبل فراہم کرنے کیلئے اپنا مشترکہ سفر جاری رکھیں گے









