بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عوامی دباؤ پر امریکا اسرائیل سے متعلق اپنا بیانیہ تبدیل کرنے پر مجبور

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی مذمت اور امریکا کے اندر فلسطینیوں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں نے اثر دکھا دیا، شدید عوامی دباؤ کے باعث ’اسرائیل کے حق دفاع‘ کی تکرار کرنے والے انٹونی بلنکن اسرائیل سے متعلق اپنا بیانیہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔

گزشتہ چار ہفتوں سے بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیلی وزیراعظم کی مضبوط حمایت اور غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کے دفاع کے بیانیے میں ایک اہم تبدیلی رونما ہو گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ روز بات چیت کرتے ہوئے غزہ میں سویلین ہلاکتوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو اپنے اہداف کو مزید واضح کرنے کی تنبیہہ کردی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا کہنا ہے اگرچہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی اقدامات کی مذمت نہیں کی ہے تاہم بلنکن کے ایسے بیان کو بائیڈن انتظامیہ کے اسرائیل سے متعلق بیانے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ غزہ میں بہت زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، لاتعداد متاثر ہوچکے ہیں، ہم ان کو مزید نقصانات سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور بھرپور کوشش کریں گے کہ ان تک زیادہ سے زیادہ مدد پہنچائی جا سکے۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل سے اپنے بات چیت بھی جاری رکھیں گے کہ وہ اپنے اہداف کو واضح کرتے ہوئے بہت محتاط اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا اسرائیل سے بات چیت کے دوران غزہ معاملے پر کچھ اہم پیشرفت ہوئی ہے تاہم انہوں نے اسے ناکافی قراردیا۔

خیال رہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل پر غزہ سے متعلق اپنے جنگی حکمت عملی میں مزید کلیرٹی کے نتائج سے امریکی حکام تاحال مطمئن نظر نہیں آتے۔

اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ حماس سویلین انفرااسٹرکچر کو اپنے پناہ کیلئے استعمال کررہا ہے،حماس کے خاتمے کیلئے ہمیں جو کرنا پڑا کیا جائے گا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بھی امریکا کے جنگ بندی کے مطالبے پر انکار کر چکا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی۔

ادھر دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، لندن، نیویارک، روم، استنبول اور بغداد سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد فلسطین میں جاری نسل کشی اور غزہ میں جنگ بندی کیلئے ہاتھوں میں پلے کارڈ لیکر سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں فسلطینیوں حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں فلسطینی مزاحمت کی علامت بن چکے فلسطینی رومال ’کفیہ‘ پہنے ہزاروں مظاہرین نے اسرائیلی جارحیت اور سویلینز کے قتل عام کے خلاف نعریبازی کی۔

مظاہرین نے’نسل کشی بند کرو‘، ’غزہ کو جینے دو‘ کے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جبکہ مظاہرین امریکی صدر بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے ’بائیڈن بائیڈن تم چھپ نہیں سکتے، ہم تمہیں نسل کشی مجرم قرار دیں گے‘ اور ’جنگ بندی نہیں،تو ووٹ نہیں‘ کے نعرے بھی بلند کرتے رہے۔