بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن نے پنجاب ریونیو اتھارٹی  کروڑوں اور اربوں روپے کے نوٹس  مستردکردیئے


Warning: Trying to access array offset on value of type bool in /home/cn0hgdhfr55b/public_html/dailymumtaz.com/wp-content/themes/dmumtaz/template-parts/content/content-single.php on line 20

 

راولپنڈی (اصغر چوہدری )ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن کور کمیٹی کے ماہانہ اجلاس کی میزبانی سیفرون فیملی ریسٹورنٹس کے CEO چوہدری زاہد محمود نے کی فوڈ انڈسٹری کو موجودہ درپیش مسائل کے حوالے سے مشاورت کی گئی ، مشاورت میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے خیالی اسسمنٹ کے طریقہ کار سے ریسٹورنٹس کو بھیجے گئے کروڑوں اور اربوں روپے کے نوٹس کو مسترد کیا گیا اور ٹیکس کی ریشو جو دن بدن بڑھ رہی ہے اس کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا گیا کیونکہ اس وقت تمام تاجروں کو ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے ٹیکس زیادہ سے زیادہ ادا کرنے کا کہا گیا ہے تو تمام ممبران نے اپنا ٹیکس بڑھایا ہے جس کی رپورٹ کمشنر پنجاب ریونیو اتھارٹی راولپنڈی طاہرہ جاوید نے حالیہ راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ہماری میٹنگ میں پیش کی تھی جس میں اس چیز کا اعتراف کیا تھا کہ راولپنڈی میں سب سے زیادہ سیلز ٹیکس اکھٹا ہوا ہے ، کمیٹی میں سیلز ٹیکس کا ریٹ خیبر پختون خواہ کے ریٹ کے مطابق کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ آسان ٹیکس ریٹ اور آسان ٹیکس فارم جو کہ اردو میں ہو اور اس کو انتہائی آسان کیا جائے جو کہ ہر ممبر اپنی ماہانہ ٹیکس ریٹرن خود سے بھر سکے اور اس کے لئے پنجاب ریونیو اتھارٹی اپنے آفس میں کنسلٹنٹ بٹھائے جو تاجروں کو سہولت فراہم کریں ٹیکس ریٹرن بھرنے میں ان لوگوں کو اس کام پر لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکھٹا کیا جائے نہ کہ ریسٹورنٹس کی کرسیاں گننے پر ان کو مامور کیا جائے کیونکہ اب ریسٹورنٹس کا کاروبار 80 % مہنگائی کی وجہ سے کم ہو گیا ہے پنجاب ریونیو اتھارٹی نے کرسیاں گن کر جو روزانہ کی سیل کی اسسمنٹ کی ہے وہ کام ہم مہینے میں بھی نہی کرتے لہٰذا اس ظالمانہ اسسمنٹ کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے ورنہ ہم احتجاج کے لئے سڑکوں پر ہوں گے جس کی ذمہ دار پنجاب ریونیو اتھارٹی کے کرسیاں گننے کی اسسمنٹ کرنے والے لوگ ہوں گے  سوئی گیس کی قیمتوں میں کئے گئے اضافے نے تو ہماری کمر ہی توڑ دی ہے آسان الفاظ میں آپ کو سمجھاتا ہوں جو بل پہلے ہمارا ایک لاکھ روپے اگر آتا تھا،تو اب وہ اس اضافے کے بعد تین لاکھ ساٹھ ہزار ہو گیا ہے جو کہ ہمیں سراسر نقصان ہے اس دفعہ دسمبر میں آنے والے بل فوڈ کے تاجر قرض لے کر ہی ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ہم نے ریٹ بڑھائے نہی ہیں اور حکومت نے گیس کے ریٹ 600% بڑھا دیے ہیں ،اسی طرح واسا کی جانب سے پانی کے چارجز 1500% بڑھا دیے ہیں اور اس پر تاجروں کی بات کو نہی سنا جا رہا ہے،بجلی کی قیمتوں میں پہلے ہی بے تحاشا اضافہ کیا جا چکا ہے اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والی ہم فوڈ انڈسٹری ہیں نہ تو ہمیں انڈسٹری کی سہولیات دی جا رہی ہیں اور نہ ہی حکومت ہمارے لئے کئے گئے فیصلوں میں ہمیں شامل کرتی ہے جبکہ سٹیک ہولڈر کے ساتھ مشاورت کے ساتھ فیصلے کئے جانے چائیے سوئی گیس ایشو میں جس طرح پچھلے سال وفاقی وزیر پٹرولیم سنیٹر مصدق ملک نے ہم سے مشاورت کے ساتھ 400 روپے فی MMBTU کا اضافہ کیا تھا اور RLNG پر منتقل ہونے کے سوئی گیس کے نوٹس کو مسترد کیا تھا آج نگران حکومت بھی فیصلوں میں ہمیں شامل کرے ہمارے اوپر زبردستی کے فیصلے مسلط نہ کرے جس سے کاروبار بند ہوں اور ملک کی اکانومی جس کو بہتر بنانے کے لئے ہم تاجر قربانی دے رہے ہیں اس کو نقصان پہنچے اس سلسلے میں اہم پریس کانفرنس 20 نومبر کو کی جائے گی۔