پاکستان کے ماہرِ بین الاقوامی امور محمد ضمیر اسدی نے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی اس حالیہ کامیابی کو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متوازن حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت ثابت کر دی ہے، جہاں وہ دو روایتی حریفوں، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
ضمیر اسدی کے مطابق، پاکستان کی واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ یکساں قربت اسے ایک ایسی منفرد پوزیشن دیتی ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں۔
پاکستان تہران کی سیاسی “ریڈ لائنز” کو بھی سمجھتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو بھی بخوبی نبھاتا ہے۔
پاکستان کا کردار کسی پر اپنا فیصلہ مسلط کرنا نہیں، بلکہ دونوں فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کر کے منظم بات چیت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اسلام آباد اس وقت خاموش سفارت کاری (Quiet Diplomacy) کے ذریعے اعتماد سازی پر توجہ دے رہا ہے، جہاں عوامی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ماہرِ امورِ خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے اگلے اقدامات میں درج ذیل نکات شامل ہوں گے:* رسمی مذاکرات سست ہونے کے باوجود پسِ پردہ رابطوں کو فعال رکھنا۔* ابتدائی طور پر کم متنازعہ امور (انسانی ہمدردی اور کشیدگی میں کمی) پر بات چیت شروع کرانا۔
مزید پڑھیں:سب میرین کیبل خراب، انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ، پی ٹی سی ایل
* بتدریج حساس معاملات مثلاً پابندیوں اور اسٹریٹجک کنٹرول کی طرف پیش رفت کرنا۔* علاقائی فریقین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا تاکہ سفارتی عمل جامع اور متوازن رہے۔
ضمیر اسدی نے زور دے کر کہا کہ ایسے حساس تنازعات میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار حقیقت پسندانہ، مدبرانہ اور انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔









