نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی خلائی ایجنسی ’اسرو‘ نے اپنا راکٹ لانچ کردیا، جس کا مقصد بلیک ہولز کا مطالعہ کرنا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی مشن آج (یکم جنوری کو) سری ہری کوٹا اسپیس پورٹ سے مقامی وقت صبح 9 بجکر 10 منٹ پر لانچ کیا گیا۔
بلیک ہولز پر مطالعہ کرنے کے لیے خلا میں بھیجنے والا یہ دوسرا مشن ہے، اس سے قبل ناسا نے پہلی بار 2021 میں لانچ کیا تھا۔
خلائی ایجنسی اسرو کا کہنا ہے وہ سائنسدانوں کو ’بلیک ہولز‘ سے متعلق معلومات اور علوم میں اضافے کے لیے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے چیئرپرسن ایس سوما ناتھ نے لانچ کے بعد کہا کہ وہ بہت پرجوش ہیں کہ آگے کیا ہوگا اور کون سے نئے انکشافات سامنے آئیں گے۔
اسرو کا سیٹلائٹ ’ایکس رے پولی میٹر سیٹلائٹ‘ کا مقصد بلیک ہولز پر گہرائی سے تحقیق کرنا ہے۔
تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا یہ اسپیس راکٹ تقریباً پانچ سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
#ISRO begins 2024 in Style!
Successful launch of PSLV-C58/ 🛰 XPoSat Mission.
Proud to be associated with the Department of Space at a time when Team @isro continues to accomplish one success after the other, with the personal intervention & patronage from PM Sh @narendramodi. pic.twitter.com/cisbjpUYpH— Dr Jitendra Singh (मोदी का परिवार) (@DrJitendraSingh) January 1, 2024
اس سے قبل اگست 2023 میں بھارت کا تاریخی خلائی مشن چندریان-3 چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈ کرگیا تھا اور اس کے ساتھ ہی چاند پر اپنا خلائی مشن بھیجنے والے دنیا کے چند ممالک میں شامل ہوگیا تھا۔
بلیک ہول کیا ہے؟
بلیک ہولز کائنات میں پائے جانے والے سب سے بڑے آبجیکٹ ہیں جن کا حجم سورج سے 10 ارب سے 40 ارب گنا بڑا ہوسکتا ہے۔
ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ یہ بلیک ہول ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے کے مرکز میں پائے جاتے ہیں، تاہم سائنس دان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے ہیں۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جب کوئی ستارہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ہوتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے یا پھر بلیک ہول میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
کوئی بھی ستارہ بلیک ہول اس وقت بنتا ہے جب اس کے تمام مادے کو چھوٹی جگہ میں قید کردیا جائے۔ اگر ہم اپنے سورج کو ایک ٹینس بال جتنی جگہ میں مقید کردیں تو یہ بلیک ہول میں تبدیل ہوجائے گا۔
یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔









