بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوتا تو جیلیں نہ کاٹتا، شہباز شریف

لاہور: مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوتا تو جیلیں نہ کاٹتا۔

ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آر ٹی ایس بٹھایا گیا اور الیکشن نتائج کو تبدیل کیا گیا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2018 میں پولنگ ایجنٹس کو نکال کر ٹھپے لگائے گئے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں جیت کو شکست میں بدلنے کی شرمناک سازش کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن میں عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں، ان کی ترجیحات کیا ہیں، ملک کو معاشی و خارجی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جس مقصد کے لیے وجود میں آیا ابھی تک وہ پورا نہیں ہو سکا، جن قوموں میں شکست نہ ماننے کا عزم ہو انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

دریں اثنامیڈسے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا کہ ن لیگ کی مقبولیت پھر بڑھ رہی ہے کیوں کہ لوگ جانتے ہیں مسائل ن لیگ ہی حل کرسکتی ہے۔
انہوں نےکہا کہ ان کی مقبولیت پی ڈی ایم حکومت میں جانے سے نہیں بلکہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے ایمرجنسی اقدامات کے باعث کم ہوئی تھی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کرکے مُکرگئی تھی، ہم نے حکومت سنبھال کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
ایک سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوتے تو نہ جیلیں کاٹتے اور نہ نیب کے عقوبت خانے میں جاتے۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں آر ٹی ایس بٹھانےکے باوجود ن لیگ جیت رہی تھی، رات میں پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر ٹھپّے لگائےگئے، ماضی سے سبق حاصل کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔