بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’بولڈ لباس میں آرام دہ محسوس نہیں کرتی‘، رشمیکا مندانا

بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا(Rashmika Mandana) نے کہا ہے کہ وہ فلموں میں ایسے لباس پہننے میں آرام محسوس نہیں کرتیں جن میں جسم زیادہ نمایاں ہو اور وہ اپنے کام کے دوران اپنی پسند اور ناپسند کی حدود کا خیال رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اداکاروں کو کسی بھی ایسے لباس یا منظر کے بارے میں اپنی رائے دینے کی آزادی ہونی چاہیے جس میں وہ خود کو آرام دہ محسوس نہ کریں۔

رشمیکا مندانا نے یہ بات معروف فلم ساز کرن جوہر کے شو ’کافی ود کرن‘ کے سیزن 9 میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے شوہر اور اداکار وجے دیوراکونڈا بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

رشمیکا مندانا نے بتایا کہ بعض فلمی کرداروں کی ضرورت کے تحت اداکاروں کو بکنی یا دوسرے مختصر لباس پہننے پڑ سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اداکار ہر بات پر رضامند ہو جائیں۔

اداکارہ کے مطابق، وہ ایسے لباس پہننے میں آرام محسوس نہیں کرتیں جن میں جسم کی زیادہ نمائش ہو۔ وہ جانتی ہیں کہ کمرشل فلموں میں بعض اوقات اس طرح کے ملبوسات کردار کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کچھ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی ہیں اور لباس کے معاملے میں اپنی حدود کا تعین خود کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں جو ان کی پسند اور فیصلوں کو سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، بہت سے ہدایت کار ان کی بات کو سمجھتے ہیں اور ان کے فیصلے سے اتفاق بھی کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:ہیری بروک کو کرکٹ کی تاریخ میں انتہائی منفرد اعزاز حاصل، دوسرے کھلاڑی بن گئے

گفتگو کے دوران رشمیکا نے یہ بھی کہا کہ فلم سائن کرنے کے بعد کسی منظر یا لباس پر اعتراض کرنا اداکاروں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنے سے کام پر اثر پڑ سکتا ہے یا انہیں غیر پیشہ ور سمجھا جائے گا۔

وجے نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ایسے معاملات پر بات کرنا مشکل ہوتا ہے، چاہے اداکار فلمی دنیا میں اپنا مقام ہی کیوں نہ بنا چکے ہوں۔

رشمیکا نے کہا کہ بعض اوقات اداکار کسی بات پر رضامند تو ہو جاتے ہیں، لیکن بعد میں سوچتے ہیں کہ انہیں اسی وقت اپنی رائے کا اظہار کر دینا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی اداکار کسی لباس یا منظر کے لیے تیار نہیں تو اسے اپنی بات کہنے کا موقع ملنا چاہیے۔

رشمیکا نے یہ بھی بتایا کہ بعض مواقع پر انہیں ہدایت کار کے سامنے یہ کہنا مشکل لگتا ہے کہ وہ کوئی خاص منظر نہیں کرنا چاہتیں۔ ایسے وقت میں وہ اپنے شوہر وجے سے بات کرتی ہیں اور وہ انہیں حوصلہ اور ہمت دیتے ہیں۔ وجے انہیں سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ کسی چیز میں آرام محسوس نہیں کرتیں تو انہیں صاف طور پر اپنی بات کہنی چاہیے۔

اس گفتگو میں وجے نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اداکاروں کو مختصر لباس پہننے یا کسی قریبی منظر کی عکس بندی سے انکار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ کسی اداکار کے انکار کو غیر پیشہ ورانہ رویہ نہیں سمجھنا چاہیے۔