اسلام آباد (ممتاز نیوز )جرمنی کی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ایسوسی ایشن کے کنٹری ہیڈ برائے پاکستان میتھیو ڈی شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے اسلا م آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور چیمبر کے صدر احسن ظفر بختاوری کے ساتھ دونوں ممالک کی ایس ایم ایز کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر پرویز اختر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جرمن وفد سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کی ایس ایم ایز کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن کو عملی شکل دے کر دونوں ممالک اپنی معیشتوں کیلئے فائدہ مند نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔پاکستان اور جرمنی کے در میان تعلقات کی ایک تاریخ ہے اور دونوں ممالک نے تجارتی سطح پر بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان اور جرمنی کا موجودہ تجارتی حجم تسلی بحش نہیں ہے۔جی ایس پلس کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں کی جرمنی کو ایکسپور ٹ حوصلہ افزائ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس جرمنی کی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر پاکستان اور جرمنی کی ایس ایم ایز کے در میان براہ راست روابط کو فروغ دینے کیلئے ہرممکن تعاون کرے گا تا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لا کر پاکستان اور جرمنی کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن کمپنیاں ٹیکنالوجی کی منتقلی کر کے پاکستان میں سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ یورپ اور جرمنی کی آبادی عمر رسیدہ ہو تی جا رہی ہے۔جرمنی کو معاشی سفر جاری رکھنے کیلئے نوجوان ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں سپیشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس بنا کر پورپ اور جرمنی کو انسانی وسائل ایکسپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ہزاروں طلبائ آئی ٹی شعبے میں گریجویشن کرتے ہیں ۔جرمن آئی ٹی کمپنیاں پاکستان میں اپنے دفتار کھولیں اور اس ورک فورس کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
جرمنی کی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ایسوسی ایشن کے کنٹری ہیڈ برائے پاکستان میتھیو ڈی شاہ نے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے بے پناہ امکانات موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ان کی ایسوسی ایشن دنوں ممالک کی ایس ایم ایز کو ایک دوسرے سے روابط بہتر کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے اور جرمن کمپنیاں اس میں کافی دلچسپی رکھتی ہیں ۔جرمنی کی بزنس کمیونٹی ان بے پناہ مواقعوںسے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جرمن کمپنیوں کے تجربات انتہائی شاندار ہیں۔ہمیں ان ہی تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی تجارتی تنظیموں کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست تعلقات کے قیام کیلئے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر اختر پرویزنے کہا کہ جرمنی کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔ہمارا چیمبر اس حوالے سے سہولت کاری کرے گا۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی جرمنی میں موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھائے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ مرکوز کرے۔
چیمبر کے نائب صدرانجینئر اظہر الاسلام ظفر نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے در میان حکومتی سطح پر انتہائی گرمجوشی پائی جاتی ہے۔جرمن کمپنیاں پیشہ وارانہ کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں۔پاکستان میں ان کو ا سی وجہ سے بہت عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کا تبادلہ بڑھا کر باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جائے۔
چیمبر کے سابق صدر اور یو بی جی پاکستان کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے اس بات پر زور دیا کہ لفتھانزا ایئرلائن پاکستان اور جرمنی کے درمیان براہ راست پروازے شروع کرے جس سے پاکستان اور جرمنی کے درمیان بہتر کاروباری تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو گا اور باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔









