اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس 5 اکتوبر کو روس میں ہوگا۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور باہمی اختلافات پر علاقائی سطح پر بات چیت کا ایک اور موقع فراہم ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق وفد کی قیادت کریں گے۔ پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری/ڈی جی افغانستان، ایران و ترکیہ نعیم اقبال چیمہ، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی اور روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی شامل ہوں گے۔
افغان طالبان کی جانب سے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی وفد کی قیادت کریں گے تاہم محمد صادق اور امیر خان متقی کے درمیان دوطرفہ ملاقات تاحال طے نہیں ہوئی۔ افغان طالبان کے ایک عہدے دار کے مطابق طالبان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی درخواست نہیں کی گئی۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ افغان طالبان پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد پر افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر خطے کے دیگر ممالک بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی رابطوں پر زور دیا ہے۔
اس سے قبل چین نے بھی اپریل میں ارومچی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، تاہم ان مذاکرات سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آسکی تھی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان اور علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے سمیت دیگر امور پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان، افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے جبکہ بیلاروس اور مصر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:میکسیکن فٹبالر نے امریکی حریف کے چہرے پر تھپڑ برسا دیے
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں مسلسل تناؤ کے باعث ماسکو اجلاس کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم اجلاس کے موقع پر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست اعلیٰ سطحی ملاقات یا کسی بریک تھرو کے امکانات فی الحال واضح نہیں ہیں۔









