بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا آپشن موجود رہنا چاہیے، بیرسٹر سیف

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ دونوں اطراف سے خون بہہ رہا ہے اور اس جنگ کو روکنے کا واحد حل بات چیت ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ایک بار پھر عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ
انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے اور جب تک دہشت گردی جاری ہے یہ جنگ بھی جاری رہے گی، تاہم اس کے باوجود امن کو راستہ دینے کے لیے مذاکرات کا آپشن موجود رہنا چاہیے۔‘
بیرسٹر سیف کے مطابق ’دونوں اطراف سے خون بہہ رہا ہے اور جب تک جنگ جاری رہے گی، یہ سلسلہ رُکے گا نہیں۔ اگر ہم امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔‘
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم دہشت گردوں کے آگے سرنڈر کر رہے ہیں یا ہم اُن کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر رہے ہیں۔‘
ہماری بات اگر ہوگی تو وہ تب ہوگی جب وہ پاکستان کے آئین، پاکستان کی ریاست اور پاکستان کے قانون کے احترام کا وعدہ کریں گے، اس کے بعد ہم راستہ بنائیں گے کہ ہم ان کے ساتھ کس طرح ایڈجسٹ کریں تاکہ یہ معاملہ ختم ہو۔‘
مشیر اطلاعات کا مزید کہنا ہے کہ ’کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے اُن کا رابطہ تاحال قائم ہے، ٹی ٹی پی والے کوئی پیغام دینے کے لیے مجھے میسج کرتے ہیں، میں بھی اپنا پیغام اُن تک پہنچاتا ہوں، تاہم ابھی تک اُنہوں نے مجھ سے باضابطہ طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘
’عسکریت پسند بھی مذاکرات چاہتے ہیں کیونکہ انہیں بھی شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم دونوں جانب سے رضامندی کے بعد ہی مذاکرات ممکن ہوسکیں گے۔‘
بیرسٹر محمد علی سیف کہتے ہیں کہ ’اگر ہم مذاکرات کرنا چاہیں اور وہ نہ مانیں تو پھر بھی امن مشکل ہے۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی سے بات چیت اُسی کی رضامندی سے ہوئی تھی، اگر ٹی ٹی پی والے نہ چاہتے تو ملاقات نہ ہوتی۔
ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ ’بات چیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دہشت گردوں کے آگے سرنڈر کر رہے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیبر پختو نخوا حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ’وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت سے بات چیت ہو تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکے۔‘