بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عدالتی امور میں مداخلت ، ازخود نوٹس پر  فل کورٹ تشکیل دیاجائے،پی ٹی آئی کا چیف جسٹس سے مطالبہ

اسلام آباد (اصغر چوہدری)پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کریں۔ پی ٹی آئی ترجمان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر فل کورٹ کی تشکیل سے گریز اور عدالتی امور میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مداخلت کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر کی جانے والی اب تک کی کارروائی کو معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دے دیا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا خط ایک نہایت سنجیدہ، حسّاس اور سنگین نوعیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے معاملے پر اب تک اٹھائے جانےوالے اقدامات ناکافی، غیرموثر اور عدلیہ کے مستقبل کیلئے نہایت خطرناک ہیں۔پی ٹی آئی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے اپنے خط میں جو بنیادی معاملہ اٹھایا اس پر کسی سنجیدہ اقدام کی بجائے چیف جسٹس نے اپنے خطبے میں اس کی نفی کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ریاستی اداروں خصوصاً عدلیہ اور انتظامیہ میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی غیرقانونی مداخلت ملک و قوم کیلئے تباہی کے دروازے کھول رہی ہے۔پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مداخلت عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کی قبر کھود رہی ہے جس کی گواہی کمشنر راولپنڈی نے پوری دنیا کے سامنے دی۔انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے عدلیہ کی آزادی کیلئے 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا جب کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت سینکڑوں کارکنان نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔پی ٹی آئی ترجمان نے مو ف اختیار کیا کہ تاریخ کے بدترین ریاستی جبر و فسطائیت کا نشانہ بننے اور ناحق قید میں ڈالے جانے کے باوجود بھی بانی چیئرمین عمران خان اور تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی اور ملک میں قانون کی حکمرانی کیلئے لازوال قربانیاں پیش کررہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بانی چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام جیل سے بھجوائے گئے اپنے مکتوب میں بھی ان سے معاملے پر مو¿ثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی ترجمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ قوم چیف جسٹس کے مجموعی رویے اور ججز کے خط پر اب تک کیے گئے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کو فراہمءانصاف سے جڑے اس سنگین نوعیت کے معاملے پر تین، پانچ اور سات رکنی بنچ کی بجائے کم از کم فل کورٹ کی تشکیل بنیادی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس صاحب سنجیدہ اور حساس ترین معاملات کو خطبوں کی نذر کرنےکی بجائےاپنےمنصبی فرائض،دستور اور عدلیہ کے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔