افغانستان کے غیر پشتون طالبان نے امتیازی سلوک کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے۔
افغان خبر رساں ایجنسی ”آماج نیوز“ کے مطابق افغانستان کے بلخ، پنجشیر، کاپیسا، اور پروان صوبوں سے تعلق رکھنے والے غیر پشتون طالبان کے اراکین نے ایک افغان میڈیا آؤٹ لیٹ کو پیغامات بھیجے ہیں۔
ان پیغامات میں طالبان کی صفوں میں موجود نسلی تعصب کے خلاف عبدالحمید خراسانی کے موقف کی بازگشت سنائی دی ہے۔
غیر پشتون طالبان نے اپنے ویڈیو پیغامات میں اس بات پر زور دیا کہ گروپ کے اندر نسلی تقسیم ختم ہونی چاہیے۔
If ethnicism is not stopped among the Taliban, we will respond, say non-Pashtun Taliban
A number of non-Pashtun Taliban from Balkh, Panjshir, Kapisa and Parwan provinces sent videos to Aamaj News while supporting the remarks of Abdul Hamid Khorasani, warning that if…1️⃣ pic.twitter.com/U4w2iVQKOU
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) May 10, 2024
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ برقرار رہتا ہے تو فوری جوابی کارروائی کی جائے گی۔
یہ پیغامات تین سال قبل افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے غیر پشتون طالبان کے اراکین کی طرف سے نسلی امتیاز کی مخالفت کا پہلا عوامی اعلان ہے۔
یہ بیانات طالبان حکومت کے اندر اس طرح کے اندرونی اختلاف کی پہلی مثال ہے۔
عبدالحمید خراسانی ایک تاجک طالبان کمانڈر جنہوں نے بدخشاں میں مظاہروں کی حمایت کی اور انہیں طابلان قیادت کی جانب سے تضحیک آمیز تبصروں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے پشتون طالبان کے اراکین میں غم و غصہ پھیل گیا۔
غیر پشتون طالبان اراکین نے اپنے انتباہ میں عبدالحمید خراسانی کی بے عزتی برقرار رہنے کی صورت میں گروپ سے علیحدگی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔









