بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

برطانیہ میں فسادات کے مقدمات کے فوری فیصلے ،مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں

لندن :برطانوی عدالتوں نے فوری انصاف کرتے ہوئے فسادات میں ملوث 2 مجرمان کو قید کی سزائیں سنا دیں۔
برطانوی حکومت نے پُرتشدد مظاہروں سے نمٹنے کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی ہیں۔ مظاہروں میں ملوث افراد کو فوری سزاؤں کیلئے پبلک پراسیکیوشن 24 گھنٹے فعال رہے گا۔ اس حوالے سے ڈائریکٹرپبلک پراسیکیوشن سٹیفن پارکنسن نے کراؤن پراسیکیوشن کے وکلا کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ جہاں ثبوت موجود ہوں وہاں فوری چارج کرنے کےفیصلے کیےجائیں انصاف کی فوری فراہمی کے لیے 24 گھنٹےکام کر رہے ہیں، پُرتشدد جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے ہم عدالتوں کو زیادہ سے زیادہ معاونت فراہم کریں گےکہ ملوث افراد کو سزائیں سنائیں۔
عدالتوں نے مقدمات پر سماعت کے بعد فوری فیصلے سنانا شروع کر دیے ہیں۔ فسادات میں ملوث 2 مجرمان کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ملزمان کو پُرتشدد کارروائی اور ہتھیار رکھنے کے جرم میں 16ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
لیورپول کراؤن کورٹ کی عدالتی کارروائی براہ راست دکھائی گئی۔ 16 ماہ جیل میں سزا کاٹنے کے بعد مجرمان کو لائسنس پر رہائی ملےگی اور رہائی کے بعد کچھ بھی غیرقانونی کام کیا تو دونوں کو دوباہ جیل ہو گی۔
انگلینڈ اور ویلز کے پبلک پروسیکیوشن ڈائریکٹر اسٹیفن پارکنسن نے خبردار کیا کہ فسادات سے متعلق نسلی منافرت پر مبنی آن لائن مواد شیئر کرنا جرم ہو سکتا ہے۔ ’ہمارے پاس ایسے سرشار پولیس افسر ہیں جو اس مواد کو تلاش کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو چھان رہے ہیں، اور پھر شناخت گرفتاریوں کے ساتھ فالو اپ کر رہے ہیں۔‘
اسٹیفن پارکنسن کے مطابق نسلی منافرت پر مبنی اس نوعیت کی آن لائن شیئرنگ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے جسے شاید لوگ کوئی اتنا ضرررساں عمل نہ سمجھتے ہوں مگر اس کے نتائج کا انہیں سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ کچھ روز قبل برطانیہ کے شہروں لیورپول، برسٹل، مانچسٹر، اسٹول آن ٹرینٹ، بلیک پول اور بلفاسٹ سمیت 2 درجن سے زائد شہروں میں نسل پرستوں کے حملوں میں 150 پولیس اہلکار اور درجنوں شہری زخمی ہوگئے۔
مقامی میڈيا کے مطابق دائيں بازو کے حامی ساؤتھ پورٹ میں بچوں کے قتل کے بعد سے گزشتہ 5 روز سے جاری واقعات میں مشتعل افراد نے پولیس اسٹیشنز کو آگ لگادی اور متعدد اسٹورز لوٹ لیے تھے۔
برطانیہ میں پولیس نے ملک بھر میں انتہائی دائیں بازو کے تشدد کے تناظر میں پرتشدد اور نفرت انگیز سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر خاتون سمیت 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ، یہ گرفتاریاں آن لائن پھیلے ہوئے جھوٹے دعوؤں کے باعث فسادات کے بعد ہوئی ہیں کہ ساؤتھ پورٹ میں تین بچوں کو چاقو مارنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا مشتبہ مسلمان سیاسی پناہ کا متلاشی تھا۔
برطانوی حکومت نے ہنگامہ آرائی میں ملوث ملزمان کو سزائیں دینےکے لیے عدالتیں 24 گھنٹے کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے واضح کیا ہےکہ غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، واقعہ دہشت گردی ہے اور نہ ہی ملزم مسلمان ہے۔
برطانوی وزيراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کے لیے جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ آزادی اظہار رائے اور تشدد 2 الگ چیزیں ہیں، سڑکیں محفوظ رکھنے کے لیے ہرممکن کارروائی کی جائے گی۔