یروشلم(انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی فوج میں 98ویں ڈویژن کے کمانڈر ڈین گولڈفس نے چینل 12 کو دیے گئے بیانات میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کی گرفتاری سے چند منٹ کے فاصلے پر ہیں۔
گولڈفس نے چینل کے ساتھ اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ ایک موقعے پر ہم السنوار کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ہم اس کےزیر زمین کمپاؤنڈ میں تھے۔ ہمیں وہاں بہت پیسے ملے اور کافی ابھی تک گرم تھی۔ ہر طرف ہتھیار بکھرے پڑے ہیں۔
پچھلے مہینوں کے دوران اسرائیلی فوج نے کئی بار کہا کہ وہ السنوار کے قریب آ رہی ہے، لیکن اسرائیل میں سب سے زیادہ مطلوب شخص، جسے “زندہ مردہ آدمی” کا نام دیا جاتا ہے ہر بار چکمہ دے کر نکل جاتا ہے۔
گذشتہ فروری میں فوج نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا جس میں السنوار کو غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے نیچے ایک سرنگ میں دکھایا گیا تھا، جس کے چاروں طرف اس کی بیوی اور دو یا تین بچے تھے۔
ہنیہ کا قتل
ہنیہ کے قتل کے بعد السنوار کے باضابطہ طور پر حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد بہت سے مغربی اور عرب ممالک نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسرائیل السنوار جسے وہ دہشت گرد قرار دیتا ہے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا؟۔
خاص طور پر جب سے اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے اسے ایک بڑا دہشت گرد قرار دیا اور اس کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگاری کا کہنا ہے کہ یحییٰ السنوار کے لیے ایک جگہ ہے یعنی قبر ہے جس کے لیے اسرائیل نے انتظام کیا ہے۔
جب کہ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق السنوار کا انتخاب اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ زندہ ہے اور غزہ میں حماس کی قیادت موجود ہے، جب کہ بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ حماس نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے کسی بھی قسم کی کوشش ختم کر دی ہے۔
لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ السنوار غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے بنیادی فیصلہ ساز تھا اور رہے گا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ حماس کے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ کو اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا فیصلہ کرنا ہو گا۔
دوسری جانب حماس کے ایک سینیر عہدیدار نے کل منگل کو السنوار کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم “قابض اسرائیل کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ حماس مزاحمت کے راستے پر کھڑی ہے”۔









