بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیراعظم،آرمی چیف کاموجودہ حالا ت پر دورہ بلوچستان

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)بلوچستان میں دہشتگردی کے پے درپے واقعات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بارپھر واضح کردیاہے کہ ملک دشمنوں اور دہشتگردوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور جو آئین پاکستان اور قومی پرچم کو تسلیم کرتے ہیں ان کے جائز مطالبات کے لئے بات چیت ہوسکتی ہے جو بھی پاکستانی ریاست کونقصان پہنچانے کے کسی بیرونی ایجنڈے پرکام کررہے ہیں ان سے بات چیت نہیں ہوگی ،پاک فوج کے سپہ سالارجنرل عاصم منیرکابھی یہ عزم ہے کہ ملک کودہشت گردی سے پاک کیاجائے گااب وقت آگیاہے کہ دہشت گردی کامکمل خاتمہ کیاجائے،بلوچستان میں حالات خراب ہونے اور ناراض بلوچوں کا مسئلہ کوئی نیانہیں یہ مسئلہ 1965میں ایوب خان کے دورسے شروع ہواہے اور ہر دورحکومت میں مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن حال ہی میں نواب اکبر بگٹی کے واقعہ کے بعد بلوچستان میں جو حالات خراب ہوئے وہ اب تک مکمل طورپرنہیں سنبھل سکے ،پیپلزپارٹی نے آغاز حقوق بلوچستان کا پیکج دیا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو اضافی فنڈ دیئے گئے ،نوازشریف نے 2013 میں ایک قوم پرست جماعت کے رہنما ڈاکٹرعبدالمالک کو وزیراعلیٰ بنایاگیالیکن جب سے سی پیک کامنصوبہ شروع ہوا تو پاکستان دشمن قوتیں پھر متحرک ہوئیں اوراس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘نے اپنے ایجنٹ کلبھوشن کے ذریعے حالات خراب کرائے،کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد ایک بڑا نیٹ ورک پکڑاگیااب جبکہ سی پیک کافیزٹو شروع ہواہے تو بی ایل اے اور دیگرتنظیموں نے بھی حالات خراب کرنے شروع کئے ،بلوچستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں ،پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اپوزیشن اور بلوچ جماعتوں کو شامل کیاجائے ،اس کمیٹی میں تمام مسائل اور عوامل کو زیربحث لاکرایسالائحہ عمل بنایاجائے کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق بھی ملیں اور ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے عملی وٹھوس اقدامات کئے جائیں ،وزیراعظم چاہئے کہ وہ فوری طور پر کوئٹہ جائیں اور وہاں کم ازکم دوسے تین دن قیام کریں ،آرمی چیف کو بھی وزیراعظم کے ہمراہ جاناچاہئے ،سیاسی وعسکری قیادت مل بیٹھ کر بلوچستان میں امن لانے کاجامع لائحہ عمل تیارکریں کیونکہ گوادر پورٹ کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کے بعض دوست نمادشمن بھی سرگرم ہیں اور ان دوست نمادشمن ممالک کو بھی ٹھوس شواہدکے ساتھ پیغام دینے کی ضرورت ہے چین پاکستان کا ایک مخلص ومسلمہ دوست ہے ،مشکل کی ہرگھڑی میں اس نے اوآئی سی ممالک سے بڑھ کر پاکستان کا ساتھ دیا،گوادرکاانٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی تیارہوچکاہے جس کا افتتاح جلد ہوجائے گا،افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتربنانے کی ضرورت ہے اوروہاں پر موجود بعض دہشت گرد گروپوں کاخاتمہ کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کو تیز کیاجائے۔